نیپرا نے پرانے سولر صارفین پر پرانی نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھی ہے جبکہ نئے صارفین کے لیے اب الگ سے پالیسی ہو گی۔

اب نئے سولر صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کے نظام کے مطابق جب کسی صارف کا سولر سسٹم بجلی کے نظام سے جڑ جائے گا تو ہر بلنگ سائیکل کے آخر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی (ڈسکو) بجلی کے ٹوٹل استعمال بارئے حساب لگائَ گی ۔
ڈسکو یہ دیکھے گی کہ کسی بحِ سولر صارف نے کتنی بجلی خود استعمال کی اور کتنی بجلی سولر سسٹم سے بنائی۔
توانائی شعبے کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اب یہ بات کلئیر ہے کہ کسی بھی صارف کی سولر سے بننے والی بجلی ڈسکو خرید لے گی، لیکن صارف کی اپنی بجلی کی کھپت کا بل مہنگے عام نرخ پر ہی بنایا جائے گا۔
البتہ صارف کی فراہم کردہ بجلی کی رقم بل سے منہا کر دی جائے گی۔
نیپرا کے مطابق اگر کسی مہینے صارف کی جانب سے گرڈ کو دی گئی بجلی کی رقم، ڈسکو سے لی گئی بجلی کے بل سے زیادہ ہو جائے تو یہ اضافی رقم یا تو اگلے بل میں ایڈجسٹ کی جائے گی یا پھر ہر تین ماہ بعد صارف کو ادا کی جائے گی۔
نئے قواعد کے تحت سولر صارفین کو اب اجازت نہیں ہو گی کہ وہ اپنی منظور شدہ بجلی کی حد سے زیادہ صلاحیت کا سولر سسٹم لگائیں جس کا مقصد یہ ہے کہ گھریلو صارفین ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی بنا کر گرڈ کو فراہم نہ کریں۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب صارفین نیٹ بلنگ کے نظام سے جڑنے کی بجائے سولر پینل کے ساتھ بیٹریاں استعمال کر کے اپنی ضرورت کی بجلی بچائیں گے کیونکہ نیا نیٹ بلنگ نظام ان کے لیے مالی طور پر زیادہ منافع بخش نہیں رہا۔‘
ماہرین کے مطابق حکومت نئے نظام کے تحت گرڈ سے بجلی کی کھپت کو بڑھانا چاہتی ہے کیونکہ اس کی کم کھپت سے نان سولر صارفین پر کیپسٹی پیمنٹ کا بوجھ پڑتا ہے۔
نیٹ بلنگ سسٹم کیا ہے ؟
نیپرا کے نیٹ بلنگ نظام کے تحت موجودہ سولر صارفین اپنے معاہدے ختم ہونے تک پرانے نظام پر رہیں گے، لیکن نئے صارفین اور تجدید کرانے والوں پر نیا نظام لاگو ہو گا۔
نئے نظام کے تحت اگر کوئی صارف گرڈ کو دی گئی بجلی کے مقابلے میں کم بجلی استعمال کرے تو اضافی رقم یا تو اگلے بل میں شامل کر دی جائے گی یا ہر تین ماہ بعد ادا کی جائے گی۔
نیپرا نے سولر سسٹم کی زیادہ سے زیادہ حد ایک میگاواٹ مقرر کی ہے اور شرط رکھی ہے کہ سسٹم کی گنجائش صارف کے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے نظام میں ایکسپورٹ اور امپورٹ یونٹ مائنس ہو جاتے تھے تاہم نیٹ بلنگ کے نظام میں ایسا کوئی آپشن نہیں ہے۔‘
گرڈ سے بجلی لینے پر وہی قیمت ادا کرنی پڑے گی جو نان سولر صارفین کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
’نئے نظام کے مطابق بجلی کی کمپنیاں سولر صارفین سے اضافی بجلی قومی اوسط قیمت پر خریدیں گی، جو اس وقت تقریباً 11 روپے فی یونٹ ہے۔
دوسری طرف جب یہی صارفین گرڈ سے بجلی لیں گے تو انھیں 40 سے 50 روپے یا اس سے زیادہ فی یونٹ ادا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھئیے


