وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی پر ازسرِنو غور کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کے تمام صارفین کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی اپنی رہائش گاہ پر 11 کلوواٹ کا سولر سسٹم نصب ہے اور وہ خود بھی نیٹ میٹرنگ صارف ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ اس نظام کے بعض پہلوؤں کو غیر متوازن قرار دیتے ہیں۔
سینیٹ اجلاس میں نیٹ میٹرنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی صارف 5 روپے 50 پیسے یا 6 روپے فی یونٹ لاگت سے بجلی پیدا کر کے اسے 26 یا 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے قومی گرڈ کو فروخت کرے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ باقی 3 کروڑ 45 لاکھ صارفین کے ساتھ انصاف ہے؟
تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے نتیجے میں گرڈ سے منسلک عام صارفین پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ تقسیم کار کمپنیوں کے فکسڈ اخراجات بدستور برقرار رہتے ہیں۔
اویس لغاری کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث بجلی کی خریداری اور فروخت کے نرخوں میں فرق ایک اہم پالیسی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایسا حل تلاش کرے گی جو شمسی توانائی کے فروغ، توانائی کے شعبے کے استحکام اور تمام صارفین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
یہ بھی پڑھئیے

