19 اگست 2026
اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان کے بیرونی قرضوں میں کمی کا رجحان ایک مرتبہ پھر تبدیل ہوگیا ہے اور چند ماہ کی کمی کے بعد ملک کے بیرونی قرضے دوبارہ تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے جون 2026 کے دوران صرف تین ماہ میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 1242 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا، جبکہ اسی مدت میں حکومت کے مجموعی ملکی اور غیر ملکی قرضے 3112 ارب روپے بڑھ گئے۔
قرضوں میں اضافے کے بعد حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم 59 ہزار 441 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس عرصے میں صرف ملکی قرضوں میں 1870 ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بیرونی قرضہ 24 ہزار 200 ارب روپے ہوگیا
دستاویزات کے مطابق مارچ 2026 میں پاکستان کا بیرونی قرضہ 22 ہزار 958 ارب روپے تھا، جو جون تک بڑھ کر 24 ہزار 200 ارب روپے ہوگیا۔
یہ اضافہ اس رجحان کے برعکس ہے جو سال کے ابتدائی تین ماہ میں دیکھا گیا تھا۔ جنوری سے مارچ 2026 کے دوران بیرونی قرضوں میں 207 ارب روپے کی کمی ریکارڈ ہوئی تھی، جبکہ جون 2025 سے مارچ 2026 کے دوران مجموعی طور پر بیرونی قرضوں میں تقریباً 458 ارب روپے کمی آئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے جون کے دوران طویل مدتی بیرونی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مارچ میں طویل مدتی قرضہ 19 ہزار 720 ارب روپے تھا جو جون میں بڑھ کر 21 ہزار 768 ارب روپے ہوگیا۔
اس کے برعکس قلیل مدتی بیرونی قرضوں میں اسی عرصے کے دوران 506 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
وزارت خزانہ نے اضافے کی وجہ بتادی
وزارت خزانہ پہلے ہی وضاحت کرچکی ہے کہ بیرونی قرضوں میں ہونے والے اضافے کا ایک حصہ آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت ملنے والی رقوم اور سعودی آئل فنڈ جیسی کموڈیٹی فنانسنگ سہولتوں سے متعلق ہے۔
وزارت کے مطابق ان سہولتوں کے تحت حاصل ہونے والی رقوم کے لیے فوری طور پر روپے میں ادائیگی نہیں کرنا پڑتی۔
وزارت خزانہ کا یہ بھی مؤقف ہے کہ قرضوں میں ظاہر ہونے والے اضافے کا ایک اہم حصہ شرح تبادلہ میں اتار چڑھاؤ کے باعث ہونے والی ویلیوایشن ایڈجسٹمنٹ کا نتیجہ ہے، اسے مکمل طور پر نیا قرض قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قرض اور جی ڈی پی کے تناسب میں کمی، قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی اور بیرونی کھاتوں کو مستحکم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
آئی ایم ایف کی پیش گوئی بھی سامنے آگئی
پاکستان کے بیرونی قرضوں میں اضافے کا رجحان عالمی مالیاتی فنڈ کی سابقہ پیش گوئیوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا تھا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کا بیرونی قرضہ تقریباً 126.7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 میں یہ مزید بڑھ کر 131.7 ارب ڈالر تک جانے کا امکان ہے۔
تازہ اقتصادی سروے کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام تک حکومت کا بیرونی قرضہ 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔
اس میں سے 82.26 ارب ڈالر وفاقی حکومت کے ذمے تھے جبکہ آئی ایم ایف کا واجب الادا قرضہ 9.89 ارب ڈالر تھا، جو مجموعی بیرونی قرضے کا تقریباً 11 فیصد بنتا ہے۔
ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر کثیرالجہتی مالیاتی ادارے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں سب سے بڑا حصہ رکھتے ہیں، جو مجموعی بیرونی قرضے کا تقریباً 46 فیصد بنتا ہے۔
ہر پاکستانی پر قرض کا بوجھ بھی بڑھ گیا
وزارت خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے فسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان میں فی کس قرضہ 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے تک پہنچ گیا تھا۔
یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ تھی۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق قرضوں کے حجم میں مسلسل اضافہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھاتا ہے اور قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔
قرضوں کی ادائیگی کے لیے زیادہ رقم مختص ہونے سے حکومت کے مالی وسائل محدود ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی مالیاتی خسارے پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے بیرونی قرضوں میں اضافہ
قرضوں میں اضافے پر سوشل میڈیا پر بحث
پاکستان کے بیرونی قرضوں میں دوبارہ اضافے کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی معاشی صورتحال پر بحث شروع ہوگئی۔
کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے ساتھ بیرونی قرضوں میں دوبارہ اضافہ عام شہریوں کے لیے مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
بعض صارفین نے نشاندہی کی کہ رواں سال کے آغاز میں بیرونی قرضوں میں کمی کو معاشی استحکام کی علامت قرار دیا گیا تھا، تاہم اب دوبارہ اضافے کے رجحان نے خدشات پیدا کردیے ہیں۔
معاشی معاملات پر نظر رکھنے والے افراد نے حکومت سے قرضوں کے انتظام، شفافیت اور مستقبل کی مالی حکمت عملی کے حوالے سے مزید وضاحت کا مطالبہ بھی کیا۔
دوسری جانب بعض حلقوں نے وزارت خزانہ کے اس مؤقف کی جانب توجہ دلائی کہ قرضوں میں ہونے والے اضافے کا ایک حصہ کرنسی کی قدر میں تبدیلی سے پیدا ہونے والے ویلیوایشن اثرات کی وجہ سے ہے، نہ کہ نئے قرضے لینے کے باعث۔
قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ برقرار
پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران قرضوں کی مد میں بھاری ادائیگیاں بھی کرنا ہیں اور ملک آئی ایم ایف کے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط کی شرائط پر عمل درآمد کر رہا ہے۔
وزارت خزانہ کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے قرضوں کی اوسط مدت میں بہتری آئی ہے، جس سے مستقبل میں ری فنانسنگ کے خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس کے باوجود مجموعی سرکاری قرضوں کے حجم میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکومت کو بیرونی کھاتوں میں استحکام برقرار رکھنے، قرضوں کی ادائیگیوں کا انتظام کرنے اور زرمبادلہ کی پوزیشن مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے وزارت خزانہ پاکستان کا Economic Survey 2025-26 بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔


