اردو رپورٹ ڈیسک
ایمسٹلوین، نیدرلینڈز: ہاکی ورلڈ کپ کے گروپ ڈی میں بھارت نے پاکستان کو 5-3 سے شکست دے کر اسے ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔
بدھ کو کھیلے گئے اس میچ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت 16 سال بعد ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔ بھارت نے آغاز ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور بہترین مووز کے ذریعے پانچ گول اسکور کرتے ہوئے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔
پاکستانی ٹیم بھارت کی تیز رفتار اور جارحانہ حکمت عملی کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار رہی، تاہم دوسرے اور تیسرے کوارٹرز میں پاکستان نے تین گول کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ دفاعی کمزوریوں کے باعث پاکستانی ٹیم خسارہ پورا نہ کر سکی۔
بھارت نے اہم پوائنٹس حاصل کر لیے
اس کامیابی کے ساتھ بھارت نے اہم پوائنٹس حاصل کر لیے، جبکہ پاکستان کی شکست کے بعد ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے تک رسائی کی امیدیں ختم ہو گئیں۔
انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) کے زیر اہتمام ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی بیلجیم اور نیدرلینڈز مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کا آغاز 15 اگست کو ہوا تھا اور یہ 30 اگست تک جاری رہے گا۔
بھارت کے خلاف میچ سے قبل پاکستان دو میچز کھیل چکا تھا۔ اسے اپنے پہلے میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی، جبکہ ویلز کے خلاف مقابلہ 3-3 گول سے برابر رہا۔
بھارت نے بھی اس سے قبل دو میچز کھیلے تھے، جس میں اسے انگلینڈ کے خلاف شکست ہوئی، تاہم اس نے ویلز کو شکست دی تھی۔
انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک 65 میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ پاکستان نے 25 میچز میں کامیابی حاصل کی، جبکہ بھارت نے 31 مقابلے جیتے اور 9 میچز برابر رہے۔
پاکستان اور بھارت کی ہاکی ورلڈ کپ رقابت
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاکی کا پہلا مقابلہ 1956 میں ہوا تھا۔
پاکستان عالمی ہاکی کی کامیاب ترین ٹیموں میں شمار ہوتا ہے اور اب تک چار مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔ آسٹریلیا، جرمنی اور نیدرلینڈز نے تین، تین مرتبہ عالمی کپ کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
تاہم عالمی ہاکی میں پاکستان کے حالیہ زوال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چار مرتبہ کا عالمی چیمپیئن آٹھ سال کے وقفے کے بعد ہاکی ورلڈ کپ میں واپس آیا تھا۔
دوسری جانب بھارت اب تک صرف ایک مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیت سکا ہے۔
بھارت نے 1975 میں کوالالمپور میں ہونے والے ہاکی ورلڈ کپ میں اپنے روایتی حریف پاکستان کو شکست دے کر پہلی مرتبہ عالمی کپ کی ٹرافی اپنے نام کی تھی۔
اس کے بعد سے بھارت ہاکی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکا۔


