اردو رپورٹ ڈیسک
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان نے اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور دوطرفہ تجارت کا حجم آئندہ دو سال میں موجودہ 16 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔
کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کرغزستان وسطی ایشیا میں پاکستان کا اہم شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط دوطرفہ تعاون کے نئے دور کی بنیاد بنیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک تجارت کے فروغ، تجارتی طریقہ کار آسان بنانے، مشترکہ سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور براہِ راست کاروباری روابط بڑھانے کے لیے جامع منصوبے پر عمل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ راہداری تجارت کے معاہدے سے دوطرفہ تجارت، سفری سہولیات اور علاقائی روابط کو فروغ ملے گا۔ ٹرانسپورٹ، کسٹمز اور انتظامی طریقہ کار آسان بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
توانائی تعاون اہم ستون قرار
وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں تعاون پاکستان اور کرغزستان کی شراکت داری کا اہم ستون ہے۔ کاسا 1000 منصوبے کی بروقت تکمیل ضروری ہے، جبکہ بجلی، پن بجلی، متبادل توانائی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تعلیم، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھائیں گے۔ قدیم شہر اوش اور لاہور کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کا قیام بھی اہم پیش رفت ہے۔
سکیورٹی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان دہشت گردی، انتہاپسندی اور دیگر عصری خطرات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک عالمی امن و سلامتی کے لیے مؤثر کثیرالجہتی نظام کی حمایت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کرغزستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا 2027-2028 کے لیے غیرمستقل رکن منتخب ہونے اور شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیاب چیئرمین شپ پر مبارکباد دی۔ انہوں نے صدر صادر ژاپاروف کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
کرغزستان مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کا خواہاں
کرغز صدر صادر ژاپاروف نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک اعلیٰ سطحی رابطوں اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت دونوں ممالک کی شراکت داری کا اہم ستون ہے اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے منظم اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔
صادر ژاپاروف کے مطابق کرغزستان پاکستان کے ساتھ ادویہ سازی، زراعت، توانائی، ہلکی مشینری، سیاحت، ڈیجیٹل معیشت اور ورچوئل اثاثوں سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں کرغزستان کے لیے جنوبی ایشیا کی منڈیوں اور عالمی تجارت تک رسائی کا قدرتی راستہ ہیں، جبکہ کرغزستان وسطی ایشیا اور یوروایشیا کی منڈیوں تک رسائی کے لیے پاکستان کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔
تعلیم اور عوامی روابط
کرغز صدر نے کاسا 1000 منصوبے کو جنوبی ایشیا کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک عوامی روابط، تعلیم، سائنس، ثقافت، سیاحت، نوجوانوں کے تبادلوں اور کھیلوں کے ذریعے بھی تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہزاروں پاکستانی طلبہ، خصوصاً میڈیکل کی تعلیم کے لیے، کرغزستان میں موجود ہیں۔
اس موقع پر پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر صادر ژاپاروف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرکے دستاویز کا تبادلہ کیا۔


