پاکستان اور ازبکستان نے جمعہ کے روز ایک پانچ سالہ روڈ میپ (2026–2030) کے تحت تجارت کو فروغ دینے کا عہد کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔
گزشتہ برس بھی پاکستان نے ازبکستان میں نیشنل بینک آف پاکستان (NBP) کی ایک برانچ کھولنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔حالیہ برسوں کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2025 تک دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھ کر 404 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو اس سے قبل 122 ملین ڈالر تھی۔
جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اہم اجلاس منعقد
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون میں پیش رفت کا جائزہ لینے اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے پاکستان–ازبکستان جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت وزیرِاعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان نے کی۔
اقتصادی روابط مضبوط بنانے پر زور
یہ اجلاس پاکستان–ازبکستان جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے تجارت کا دوسرا سیشن تھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا اور باہمی تجارت میں اضافہ کرنا ہے۔ اجلاس میں سیکریٹری تجارت جواد پال سمیت مختلف وزارتوں اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ایم او یوز پر پیش رفت کا جائزہ
اجلاس کے دوران پہلے سے طے شدہ یادداشتِ مفاہمت (MoUs) پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تجارت کے فروغ، تجارتی راستوں کو بہتر بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
پانچ سالہ روڈ میپ جلد پیش کیا جائے گا
اس موقع پر ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت ایک پانچ سالہ روڈ میپ (2026–2030) پیش کیا جائے گا جس کے ذریعے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت کو نمایاں طور پر بڑھایا جائے گا۔
اقتصادی شراکت داری کا نیا دور
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جس سے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے آٹھ ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں جو مختلف شعبوں کے لیے تفصیلی حکمت عملی تیار کریں گے۔
چین کے راستے متبادل تجارتی روٹ پر غور
ہارون اختر خان نے بتایا کہ ازبکستان کے لیے چین کے ذریعے متبادل تجارتی راستہ مختصر اور زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جس کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
توانائی، ٹرانسپورٹ اور زراعت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ
دونوں ممالک نے توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت سمیت اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ علاقائی روابط کو فروغ دینے اور وسطی ایشیا تک بہتر رسائی کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات تیز کرنے پر زور
اجلاس کے شرکاء نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وسطی ایشیائی ممالک سے روابط مضبوط بنانے کا عزم
ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ علاقائی روابط، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے
یہ بھی پڑھئِے


