اردو رپورٹ ڈیسک
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پر آٹھ ملازمین کو فوری معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی کے واقعے پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
وزیراعظم نے ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز فوجداری کارروائی کی ہدایت کی۔ سکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں حفاظتی انتظامات پر اہم سوالات
اجلاس کو دی گئی بریفنگ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پمز میں آتشزدگی یا کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تفصیلی ایس او پیز اور عملے کی تربیت موجود نہیں تھی۔
پمز کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر موجود تھا۔ واقعے کے وقت سپروائزری عملہ بھی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔
بریفنگ کے مطابق آگ لگنے کے وقت وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔ آگ نے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لینے میں صرف دو منٹ لیے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا۔ نیونیٹل وارڈ میں آگ سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے قواعد کی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔
ایمرجنسی ردعمل پر بھی سوالات
تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا گیا کہ آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی، جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس 15 منٹ بعد پہنچا۔
بریفنگ کے مطابق ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی مخصوص افسر تعینات نہیں تھا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو یہ اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
اجلاس میں واقعے کی تقریباً دو منٹ پر محیط سی سی ٹی وی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں، یعنی واقعے سے تقریباً ایک ماہ قبل، پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ تاہم اس کے بعد ہسپتال میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سنجیدہ پیش رفت نہیں کی گئی۔
بہادر نرس کے لیے ستارہ خدمت کی منظوری
وزیراعظم شہباز شریف نے آتشزدگی کے دوران اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت دینے کی منظوری بھی دی۔
انہوں نے وارڈ میں موجود دوسری نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنانے اور مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، چیف ایگزیکٹیو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے عہدوں سے ہٹائے گئے افسران کی جگہ نئے افراد کی فوری اور یکمشت تعیناتی کا حکم بھی دیا۔


