اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرس رضیہ نورین نے 26 اگست کو ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کے دوران واحد نومولود کی جان بچائی۔
آتشزدگی میں نرسری میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے 14 جاں بحق ہوگئے، جبکہ صرف ایک بچہ محفوظ رہا۔
نرسری میں صبح 6 بج کر 38 منٹ پر آگ لگی
رضیہ نورین بچوں کے وارڈ میں ڈیوٹی انجام دے رہی تھیں۔ وہ رات بھر کی شفٹ مکمل کرچکی تھیں اور اگلی شفٹ کے عملے کا انتظار کرتے ہوئے گھر جانے کی تیاری کررہی تھیں۔
اسی دوران صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ہسپتال کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔
آگ نے انتہائی تیزی سے شدت اختیار کی، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی جان چلی گئی۔
رضیہ نورین بھی اس موقع پر موجود عملے میں شامل تھیں۔ ان کے مطابق انہوں نے بچوں کی مدد کے لیے دوبارہ نرسری کی طرف جانے کی کوشش کی، لیکن آگ اس قدر شدید ہوچکی تھی کہ اندر جانا انتہائی مشکل تھا۔
نرس رضیہ نورین نے کہا، ’’میں واپس گئی تھی مگر آگ بہت زیادہ تھی۔‘‘
واقعے کی تحقیقات جاری
یہ واقعہ اسلام آباد پمز ہسپتال میں پیش آیا، جو پاکستان کا وفاقی سرکاری ہسپتال ہے۔
آتشزدگی کے دوران آگ کے تیزی سے پھیلنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھے ہیں۔
واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
حکومت پاکستان ن نے رضیہ نورین کو ایوارڈ اور کیس انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔


