اردو رپورٹ ڈیسک
پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے اسکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں متعدد مشروبات، غذائی اشیا اور تمباکو مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ اقدام تعلیمی اداروں کی کینٹینوں اور کیفے ٹیریاز میں خوراک کے معیار سے متعلق ترمیم شدہ ضوابط کے تحت کیا گیا ہے، جنہیں پنجاب گزٹ میں شائع کر دیا گیا ہے۔
ممنوعہ اشیا میں کون سی مصنوعات شامل ہیں؟
نئے ضوابط کے تحت کاربونیٹڈ مشروبات، انرجی ڈرنکس، مصنوعی مشروبات اور مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (ایم ایس جی) پر مشتمل اشیا کی فروخت ممنوع قرار دی گئی ہے۔ ایم ایس جی کو عام طور پر چائنیز نمک بھی کہا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ روئی کی مٹھائی، گولا گنڈا، برف کی قلفیاں، تمباکو مصنوعات اور الیکٹرانک سگریٹ (ویپس) بھی پابندی کی زد میں آئیں گے۔
خوراک کی درجہ بندی کے لیے تین زمروں کا نظام
ترمیم شدہ ضوابط میں غذائی اشیا کو ان کی غذائیت کے اعتبار سے تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جنہیں سبز، پیلا اور سرخ رنگ دیا گیا ہے۔
غذائیت سے بھرپور کھانے پینے کی اشیا سبز زمرے میں شامل ہوں گی، جبکہ دیگر غذائی مصنوعات کی درجہ بندی بھی مقررہ معیار کے مطابق کی جائے گی۔
ان ضوابط کا مقصد طلبہ میں صحت مند غذا کے استعمال کو فروغ دینا اور کم غذائیت والی اشیا کی فروخت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
تعلیمی اداروں کے اطراف کاروبار بھی پابندی کے پابند
نئے قواعد کا اطلاق صرف تعلیمی اداروں کے اندر قائم کینٹینوں اور کیفے ٹیریاز تک محدود نہیں ہوگا۔
تعلیمی اداروں کے 100 میٹر کے دائرے میں کام کرنے والے کھانے پینے کے کاروباروں کو بھی ترمیم شدہ ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔
اس طرح تعلیمی اداروں کے اندر اور ان کے قریب قائم متعلقہ دکانیں اور کھانے پینے کے مراکز بھی نئے قواعد کے دائرے میں آئیں گے۔


