اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • ایف آئی اے کا نیا حکم نامہ : مسافروں کو زبانی احکامات پر آف لوڈ کرنے پر پابندی،
- سیاحت

ایف آئی اے کا نیا حکم نامہ : مسافروں کو زبانی احکامات پر آف لوڈ کرنے پر پابندی،

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مسافروں کو صرف زبانی ہدایات کی بنیاد پر پرواز سے روکنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے تحریری فیصلوں اور ڈیجیٹل ریکارڈ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ نئے قواعد کا اطلاق ملک بھر کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور خشک بندرگاہوں پر فوری طور پر ہوگا۔

اردو رپورٹ ڈیسک

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے امیگریشن افسران کو صرف زبانی احکامات کی بنیاد پر مسافروں کو آف لوڈ کرنے سے روک دیا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت مسافروں کو سفر سے روکنے کے فیصلوں کی تحریری دستاویزات تیار کرنا، ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رکھنا اور متعلقہ افسر کی ذمہ داری کا تعین ممکن بنانا لازمی ہوگا۔

ایف آئی اے امیگریشن کی جانب سے جاری کردہ 12 صفحات پر مشتمل ہدایت نامے کے مطابق اسٹینڈنگ آرڈر نمبر 07/2026 فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس کا اطلاق ملک بھر کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور خشک بندرگاہوں پر ہوگا۔

نئے حکم نامے کے ذریعے 2005 میں جاری کیا گیا سابقہ حکم نامہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ 12 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق، نئے طریقۂ کار میں خطرات کی بنیاد پر جانچ پڑتال اور انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (آئی بی ایم ایس) میں مکمل ریکارڈ محفوظ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

مسافروں کے لیے نئے قواعد کیوں اہم ہیں؟

یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی پروازوں کے لیے درست سفری دستاویزات رکھنے کے باوجود مسافروں کو سفر سے روکے جانے کے واقعات پر عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔

نومبر 2025 میں وزارتِ اوورسیز پاکستانیز نے بھی ایسے واقعات کا نوٹس لینے کی اطلاع دی تھی جن میں مبینہ طور پر ورک ویزے اور پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ رکھنے والے پاکستانی کارکنوں کو پروازوں سے آف لوڈ کیا گیا تھا۔

وزارت نے ایف آئی اے کو ایسے واقعات کا ازالہ کرنے کی ہدایت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اگر کسی اہلکار کو غیر قانونی طرزِ عمل کا ذمہ دار پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

فیصلوں کا تحریری ریکارڈ اور جواب دہی

نئے حکم نامے میں امیگریشن کے فیصلوں کو باقاعدہ طریقۂ کار کے مطابق ریکارڈ کرنے اور ان کی جانچ پڑتال ممکن بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

آئی بی ایم ایس میں متعلقہ معلومات محفوظ ہونے سے یہ معلوم کرنا آسان ہو سکتا ہے کہ کسی مسافر کو سفر سے روکنے کی وجہ کیا تھی اور اس فیصلے کا ذمہ دار افسر کون تھا۔

اس طریقۂ کار کا مقصد امیگریشن کے عمل میں شفافیت اور جواب دہی کو بہتر بنانا ہے، تاکہ کسی فیصلے پر اعتراض کی صورت میں اس کا ریکارڈ دیکھا جا سکے۔

کیا اب ہر مسافر کو سفر کی اجازت ملے گی؟

نئے قواعد کا یہ مطلب نہیں کہ ہر مسافر کو لازماً بیرونِ ملک سفر کی اجازت دے دی جائے گی۔ ایف آئی اے کے امیگریشن افسران انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی طور پر تارکینِ وطن کو بیرونِ ملک بھیجنے، جعلی سفری دستاویزات اور دیگر امیگریشن خطرات کی روک تھام کے لیے جانچ پڑتال کی ذمہ داری برقرار رکھیں گے۔

ایف آئی اے کے امیگریشن سے متعلق فرائض میں ایسے معاملات کی نشاندہی اور قانون کے مطابق کارروائی بھی شامل ہے۔

مسافروں کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ درست پاسپورٹ، ویزا، ٹکٹ اور سفر کے مقصد سے متعلق تمام ضروری دستاویزات رکھیں۔

اگر امیگریشن حکام کسی مسافر کو سفر سے روکیں تو اسے فیصلے کی وجہ معلوم کرنے اور متعلقہ نظرثانی یا شکایت کے طریقۂ کار کے بارے میں دریافت کرنا چاہیے۔

نئے حکم نامے میں تحریری ریکارڈ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ مسافر کو امیگریشن کے فیصلے کے خلاف شکایت یا اعتراض اٹھانے کی صورت میں متعلقہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایف آئی اے کا نیا حکم نامہ پاکستان میں امیگریشن کے فیصلوں کو زیادہ باقاعدہ، دستاویزی اور جواب دہ بنانے کی جانب اہم تبدیلی ہے، جبکہ سرحدی مقامات پر مسافروں کی جانچ پڑتال اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کی ذمہ داری بھی برقرار رہے گی۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!