اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی حالت کا نفاذ ضروری تھا اور یہ اقدام پہلے ہی کر لیا جانا چاہیے تھا۔
17 اکتوبر 2026 کو لندن میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ صوبے کے حالات خراب ہو چکے تھے اور صورتحال پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق، ہنگامی حالت کا نفاذ ایک ضروری قدم تھا جس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے تھی۔
تحریک انصاف کی 13 سالہ حکمرانی پر تنقید
نواز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی نے گزشتہ 13 سال کے دوران خیبرپختونخوا کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے صوبائی حکومت کے وسائل وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کے لیے استعمال کرنے پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ آخر کس ملک میں وزیراعلیٰ سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت پر حملہ کرتا ہے؟
ترقیاتی کاموں اور عوامی سہولتوں کا معاملہ
مسلم لیگ (ن) کے صدر نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں مناسب ترقیاتی کام نہیں ہوئے اور وہاں کے عوام کو ترقی اور خوشحالی سے محروم رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں خیبرپختونخوا کے لوگ علاج معالجے کے لیے لاہور آتے تھے۔ ان کے مطابق، صوبے کے عوام کو بھی خوشحالی اور بہتر سہولتیں ملنی چاہییں۔
نواز شریف نے اسلام آباد اور دیگر صوبوں کے خلاف صوبائی وسائل استعمال کرنے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری وسائل عوام کی بہتری کے لیے استعمال ہونے چاہییں، نہ کہ سیاسی محاذ آرائی کے لیے۔
عوام کی بہتری کے لیے حکومتی کوششیں
نواز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام تحریک انصاف کی اس حکومت سے آزاد ہو گئے ہیں جسے انہوں نے بدترین قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عام آدمی کی بہتری کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

