پنجاب کی وزیر اطلاعات اعظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں اربوں روپے مالیت کا لگژری جہاز خریدنے بارے کہا کہ یہ ’ائیر پنجاب‘ بنانے کی ایک کڑی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے جو طیارہ خریدا، یہ گلف سٹریم G500 لانگ رینج لگژری ایئر کرافٹ ہے جو سنہ 2019 میں تیار کیا گیا ۔
یہ لگژری طیارہ یہ عام طور پر سربراہان مملکت اور کاروباری شخصیات استعمال کرتے ہیں۔

مذکورہ طیارے کا رجسٹریشن نمبر این ون ڈبل فور ایس ہے۔ اور یہ امریکہ میں رجسٹرڈ ہے۔ یہ طیارہ پہلی بار گزشتہ سال 28 دسمبر کی شب لاہور پہنچا۔
ریکارڈ کے مطابق چھ فروری کے لگ بھگ اس نے پاکستان میں باقاعدہ پروازیں شروع کیں۔ ابتدائی طور پر یہ اپنے رجسٹریشن نمبر کو بطور کال سائن استعمال کرتا رہا۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق امریکی رجسٹریشن (N144S) کے حامل گلف اسٹریم جی 500 جدید طیارے کی قیمت 10 ارب روپے ہے۔ فلائٹ ہسٹری کے مطابق 7 سال پرانا طیارہ نارتھ امریکہ بنگور سے مصر کے شہر ہرغدہ کے راستے 28 دسمبر کو لاہور پہنچا تھا۔
تاہم 10 سے 12 فروری کے درمیان اس نے ’پنجاب ٹو‘ کے کال سائن سے لاہور سے کوئٹہ اور لاہور سے میانوالی تک پروازیں کیں۔ بعد ازاں 16 فروری کو اسی کال سائن کے ساتھ لاہور سے سیالکوٹ اور واپسی کی پرواز بھی کی گئی۔
اس وقت سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا کہ دس ارب میں یہ نیا جہاز خریدا گیا تو کیا قوم اس کی متحمل ہو سکتی ہے اس خریداری نے حکمرانوں پر نئے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔
؟ہائی اینڈ بزنس جیٹ‘ کیا ہے
Gulfstream Aerospace کی تیار کردہ Gulfstream G500 ایک جدید لگژری بزنس جیٹ ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ طیارہ رفتار، آرام اور طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
G500 ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتے ہوئے ایک ہی فلائٹ میں تقریباً 8,334 کلومیٹر تک سفر کر سکتا ہے۔
اس میں 13 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور طویل سفر کے دوران آرام کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس ماڈل کی قیمت تقریباً ساڑھے چار کروڑ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
تصاویر کے مطابق طیارے کے اندر آرام دہ صوفہ سیٹس، ڈائننگ ٹیبل اور جدید سہولیات موجود ہیں، جو اسے روایتی کمرشل جہازوں سے مختلف بناتی ہیں۔
ایک نجی ایئرلائن سے وابستہ پائلٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ خالصتاً بزنس جیٹ ہے، جسے دنیا بھر میں کاروباری شخصیات، ارب پتی افراد اور حکومتی شخصیات استعمال کرتی ہیں۔
خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں میں ایسے طیاروں کا استعمال عام ہے۔ ان کے مطابق نشستوں کی محدود تعداد کے باعث اسے روایتی کمرشل پروازوں کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔
کیا اسے کمرشل بنیادوں پر چلایا جا سکتا ہے؟
ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے طیارے کو کمرشل بنیادوں پر چلانا بظاہر قابل عمل نہیں لگتا۔
تاہم اگر اسے مجوزہ ’ایئر پنجاب‘ کے فلیٹ میں شامل کیا جاتا ہے تو حکومت اس کی آپریشنل لاگت کس حد تک پوری کر پائے گی، اس کا اندازہ مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکتا ہے۔
’ایئر پنجاب‘ کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
گزشتہ برس اپریل میں پنجاب حکومت کے ترجمان ادارے ڈی جی پی آر نے ایک اعلامیے میں پہلی بار ’ایئر پنجاب‘ کے قیام کا ذکر کیا تھا۔ اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے صوبے کی پہلی سرکاری ایئرلائن کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے ابتدائی مرحلے میں چار ایئربس طیارے لیز پر حاصل کرنے کی ہدایت دی تھی۔
منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں اندرونِ ملک پروازیں شروع کی جانی تھیں اور ایک سال بعد بین الاقوامی روٹس پر جانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے یہ سب پراسس کا حصہ ہے اور پنجاب حکومت اس پر کام کر رہی ہے۔
بعد ازاں دسمبر میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر بھرتیوں کے لیے اشتہار بھی جاری کیا گیا، جن میں چیف ایگزیکٹو آفیسر، چیف آپریٹنگ آفیسر اور دیگر اہم انتظامی مناصب شامل تھے۔
سوشل میڈیا پر بحث
طیارے کی دس ارب روپے کی مبینہ خریداری کے معاملے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
بعض صارفین اسے غیر ضروری اخراجات قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر کے نزدیک اگر اس کا استعمال صوبے کے انتظامی اور عوامی مفاد کے لیے ہو تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ طیارہ کس انتظامی یا مالی بندوبست کے تحت حاصل کیا گیا اور اس پر کتنی لاگت آئی۔
یہ بھی پڑھئِے


