پاکستان اور امریکا نے نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کے مستقبل سے متعلق ایک اہم معاہدہ کر لیا ہے۔
، اس معاہدے کے مطابق ہوٹل کی دیکھ بھال، مرمت اور ممکنہ ترقی کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔
اس سلسلے میں دونوں حکومتوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ روزویلٹ ہوٹل نیویارک کے اہم علاقے مین ہیٹن میں واقع ہے، اس لیے اس کی ترقی سے نہ صرف پاکستان کو معاشی فائدہ ہوگا بلکہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات بھی مزید مضبوط ہوں گے۔
امریکا کی جانب سے امریکی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ اور پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حکام کے مطابق اس معاہدے کا مقصد روزویلٹ ہوٹل کی موجودہ حالت، اس کی مرمت اور مستقبل میں بہتر استعمال کے امکانات کا جائزہ لینا ہے، تاکہ اس سے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل ہو سکے۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک روزویلٹ ہوٹل سے متعلق تکنیکی، تجارتی پہلوؤں کا مشترکہ جائزہ لینے کے لیے ایک باقاعدہ اور وقت مقررہ فریم ورک قائم کریں گے۔
جس کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور باہمی مفادات کے مطابق پیش رفت کو آگے بڑھانا ہے۔
حکام کے مطابق مین ہیٹن میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی اہم تجارتی حیثیت اور نیویارک کے پیچیدہ بلدیاتی اور زوننگ قوانین کے پیش نظر ادارہ جاتی تعاون سے عملدرآمد کے خطرات کم ہوں گے۔
ریگولیٹری عمل میں وضاحت آئے گی اور اس اثاثے کی زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) نے اپنے سرمایہ کاری کے ذیلی ادارے کے ذریعہ روز ویلٹ کو 1979 میں ٹھیکے پر حاصل کیا تھا۔ معاہدے کے تحت پی آئی اے کو حق حاصل تھا کہ وہ اس ہوٹل کو 20 سال بعد خرید سکتی تھی اور ایسا ہی ہوا۔
پی آئی اے نے 1999 میں اس ہوٹل کو تین کروڑ 65 لاکھ ڈالر میں خریدا۔ خریداری سے قبل پی آئی اے نے اس کے مالک سے ایک عدالتی جنگ بھی جیتی کیوں کہ ہوٹل کے اس وقت کے مالک پال ملسٹین نے دعویٰ کیا تھا کہ ہوٹل کی مارکیٹ ویلیو اس سے کہیں زیادہ ہے۔
روز ویلٹ ہوٹل کے ب ارئے میں ما ضی میں یہ خبریں آتی رہیں کہ صدر ٹرمپ اس ہوٹل کو خریدنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


