وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، خصوصاً عید کے موقع پر ممکنہ ملاقات کے لیے کوششیں جاری ہیں۔سہیل آفریدی سہیل آفریدی عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر تحریک شروع کرنے اور “رہائی فورس” بنانے کی تیاری کر رہے ہیں جس کا اعلان کرنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی ان دنوں پشاور کے بجائے اسلام آباد میں زیادہ متحرک دکھائی دے رہے ہیں اور مختلف اہم شخصیات سے رابطوں میں ہیں تاکہ عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ، جو ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد معطل ہے، دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی ان کوششوں میں شامل ہیں اور وہ بھی اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کے ذریعے ملاقات ممکن بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بعض ملاقاتوں میں ان کی موجودگی بھی رپورٹ ہوئی ہے، تاہم پیش رفت کے بارے میں واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سہیل آفریدی عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر تحریک شروع کرنے اور “رہائی فورس” بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم بعض حلقوں کی جانب سے اس مجوزہ تحریک اور سرکاری وسائل کے ممکنہ استعمال پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ ملاقاتوں میں عمران خان تک رسائی اور ان کے بہتر طبی علاج کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ملاقات کی اجازت کا انحصار کچھ حد تک پی ٹی آئی کی پالیسی اور حالیہ حالات پر ہے، کیونکہ چند واقعات کے بعد غیر اعلانیہ طور پر ملاقاتوں پر پابندی عائد ہو چکی ہے۔
مزید یہ کہ بعض اشارے ملے ہیں کہ سہیل آفریدی ممکنہ طور پر عید کے بعد احتجاجی تحریک شروع کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتے ہیں، جبکہ عید کے دنوں میں یا اس کے فوراً بعد عمران خان سے ملاقات کی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


