• Home  
  • یونان کے چڑیا گھر میں سماٹرا ٹائیگر کے تین ننھے بچوں کی پیدائش
- وائرل نیوز

یونان کے چڑیا گھر میں سماٹرا ٹائیگر کے تین ننھے بچوں کی پیدائش

اردو رپورٹ ڈیسک یونان میں دنیا کی انتہائی نایاب اور معدومی کے خطرے سے دوچار نسل، سماٹرا ٹائیگر کے تین ننھے بچوں کی پیدائش ہوئی ہے، جسے اس نسل کے تحفظ کی کوششوں میں امید کی نئی کرن قرار دیا جا رہا ہے۔ تینوں بچے ایتھنز کے قریب ایک چڑیا گھر میں تقریباً دو ماہ […]

اردو رپورٹ ڈیسک

یونان میں دنیا کی انتہائی نایاب اور معدومی کے خطرے سے دوچار نسل، سماٹرا ٹائیگر کے تین ننھے بچوں کی پیدائش ہوئی ہے، جسے اس نسل کے تحفظ کی کوششوں میں امید کی نئی کرن قرار دیا جا رہا ہے۔

تینوں بچے ایتھنز کے قریب ایک چڑیا گھر میں تقریباً دو ماہ قبل پیدا ہوئے تھے۔ منگل کے روز چڑیا گھر کے عملے نے انہیں شناختی مائیکرو چپس لگائیں اور پہلی ویکسین بھی دی۔

سماٹرا ٹائیگر شدید خطرے سے دوچار

سماٹرا ٹائیگر کو شدید خطرے سے دوچار نسل قرار دیا جاتا ہے اور یہ صرف انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں پایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگلات کی تیزی سے کٹائی کے باعث جنگل میں اس نسل کے صرف تقریباً 400 ٹائیگرز باقی رہ گئے ہیں۔ جنوبی چین اور ملایان ٹائیگرز بھی شدید خطرے سے دوچار نسلوں میں شامل ہیں۔

محفوظ افزائش سے جنگل میں واپسی کی امید

اٹیکا زولوجیکل پارک کے ماہر تھیوڈوروس بابلس کے مطابق یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں کے چڑیا گھروں میں سماٹرا ٹائیگرز کی محفوظ افزائش کی جا رہی ہے۔

اس پروگرام کا مقصد مستقبل میں ان جانوروں کو دوبارہ جنگل میں آباد کرنے کے امکانات پیدا کرنا ہے۔

دنیا کی سب سے چھوٹی ٹائیگر نسل ہونے کے باوجود نر سماٹرا ٹائیگر کی لمبائی 2.55 میٹر اور وزن 140 کلوگرام تک ہوسکتا ہے۔

یہ ٹائیگرز بہترین تیراک اور درختوں پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے جسم پر موجود سیاہ دھاریاں ہر ٹائیگر کے لیے منفرد ہوتی ہیں، بالکل انسانی فنگر پرنٹ کی طرح۔

’دی اوڈیسی‘ کے کرداروں پر نام رکھنے کا امکان

تینوں بچے جولائی کے آغاز میں مادہ ٹائیگر ٹوبا اور نر ارگوس کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ ارگوس بعد میں کینسر کے باعث ہلاک ہوگیا۔

تین بچوں میں دو نر اور ایک مادہ شامل ہیں۔ توقع ہے کہ ان کے نام ہومر کی مشہور رزمیہ داستان ’دی اوڈیسی‘ کے کرداروں پر رکھے جائیں گے۔

ویکسینیشن کے دوران بچوں کو قابو میں رکھنا عملے کے لیے آسان نہیں تھا۔ چڑیا گھر کے عملے کے مطابق دو ماہ کی عمر میں ہی ان کے پنجے اور دانت خاصے تیز ہوچکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سماٹرا ٹائیگرز انسانی گرفت اور ہینڈلنگ کو پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے ویکسینیشن کا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا تاکہ جانوروں پر کم سے کم دباؤ پڑے۔

تینوں بچوں کو مشترکہ ڈیٹا بیس میں رجسٹر کیے جانے والے مائیکرو چپس لگائے گئے۔ انہیں بلیوں میں استعمال ہونے والی ویکسین سے مشابہ ویکسین بھی دی گئی، جو تین بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!