سپریم کورٹ میں قتل کے ایک مجرم کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران معزز جج صاحبان نے جیلوں میں دستیاب طبی سہولیات کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
وکیل کے دلائل
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور اسے فوری طبی امداد درکار ہے۔ ان کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی میڈیکل رپورٹ میں بھی آپریشن کی سفارش کی گئی ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ جیل میں مناسب علاج معالجہ میسر نہیں اور وہاں ڈسپرین کے علاوہ مؤثر ادویات دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث ملزم کی صحت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
عدالت کے ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ جب جیل میں آنکھوں کے علاج کی سہولت تک موجود نہیں تو دل جیسے پیچیدہ مرض کا علاج کیسے ممکن ہوگا۔
عدالت نے مجموعی طور پر جیلوں میں طبی سہولیات کی کمی پر تشویش ظاہر کی۔
جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ ملزم اس وقت کہاں قید ہے؟ وکیل نے بتایا کہ وہ مردان جیل میں ہے۔ اس پر عدالت نے تجویز دی کہ مردان میں ہی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا حکم
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مردان میں امراضِ قلب کا خصوصی اسپتال موجود نہیں، اس لیے بورڈ کی تشکیل پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کی جائے۔
عدالت نے ماہر امراضِ قلب پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے 9 مارچ تک رپورٹ طلب کر لی۔ مزید سماعت رپورٹ موصول ہونے تک ملتوی کر دی گئی۔


