دنیا کے امیر ترین شخص اور اسپیس کمپنی Elon Musk نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی SpaceX اب مریخ کے بجائے چاند پر بستی بسانے کو ترجیح دے رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ 10 سال سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
مریخ پر چاند کو فوقیت کیوں؟

مسک کا کہنا ہے کہ مریخ کا سفر صرف ہر 26 ماہ بعد ممکن ہوتا ہے، جبکہ چاند کے لیے ہر 10 دن بعد راکٹ بھیجا جا سکتا ہے اور سفر صرف دو دن میں مکمل ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق چاند پر شہر کی تعمیر مریخ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ممکن ہے۔
شہر کا منصوبہ کیا ہے؟
ابھی اس شہر کا کوئی باضابطہ نقشہ موجود نہیں۔ مسک نے ایک مستقل انسانی بستی کا تصور پیش کیا ہے جو چاند پر موجود وسائل استعمال کرتے ہوئے بتدریج پھیل سکے گی۔
منصوبہ یہ ہے کہ بار بار راکٹ بھیج کر تعمیراتی سامان اور مشینری منتقل کی جائے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
برطانیہ کی University of Surrey کے ڈاکٹر سنگ وو لم کے مطابق چاند کی مٹی سے آکسیجن اور پانی بنانے کا تصور سائنسی بنیاد رکھتا ہے، لیکن اصل چیلنج وہاں کے سخت ماحول میں ان نظاموں کو قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل خود کفیل شہر بنانا فوری طور پر ممکن نہیں، بلکہ یہ مرحلہ وار کئی دہائیوں میں مکمل ہوگا۔
ناسا اور عالمی مقابلہ
NASA پہلے ہی آرٹیمس پروگرام کے تحت انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ 1972 میں Apollo 17 کے بعد اب تک کوئی انسان چاند پر قدم نہیں رکھ سکا۔
امریکہ کو اس دہائی میں چین کی جانب سے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
خلا میں ڈیٹا سینٹرز کا منصوبہ
مسک نے حال ہی میں اپنی اے آئی کمپنی xAI کو بھی وسعت دی ہے اور خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خلا میں جی پی یوز کو ٹھنڈا رکھنا ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہوگا۔
آگے کیا ہوگا؟
مسک کا کہنا ہے کہ اصل ہدف اب بھی مریخ پر شہر بسانا ہے، تاہم فی الحال چاند تک رسائی کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ انسانی تہذیب کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئِے


