امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار پاکستانی شہری آصف مرچنٹ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق آصف مرچنٹ کے خلاف نیو یارک میں مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ کام کر رہے تھے اور یہ کہ اس منصوبے میں کرائے کے قاتلوں کی بھرتی بھی شامل تھی۔
اس وقت آصف مرچنٹ امریکہ میں دہشت گردی اور رقم دے کر قتل کرانے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آصف مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر قتل کی سازش رچانے میں ان کی مرضی شامل نہیں تھی۔
امریکی محکمہ انصاف کا الزام ہے کہ آصف مرچنٹ امریکہ میں کرائے کے قاتل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ان کا منصوبہ تھا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ اور دیگر امریکی سیاست دانوں کو ہدف بنایا جائے۔

یاد رہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔
آصف مرچنٹ پر الزام ہے کہ جون 2024 میں انھوں نے ایک اجرتی قاتل سے ملاقات کی اور قتل کرنے کے لیے انھیں پانچ ہزار ڈالرز پیشگی ادا کیے۔
تاہم جنھیں آصف مرچنٹ اجرتی قاتل سمجھ رہے تھے وہ اسل میں اجرتی قاتل نہیں تھے بلکہ ایف بی آئی کے انڈر کور ایجنٹ تھے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق آصف مرچنٹ قتل کے منصوبے کی تکمیل سے قبل 12 جولائی 2024 کو امریکہ چھوڑنا چاہتے تھے اور انھوں نے پرواز کی بُکنگ بھی کر رکھی تھی، لیکن اسی روز امریکی حکام نے انھیں گرفتار کر لیا۔
عدالتی کاروائی جرح کے دوران آصف مرچنٹ کا یہ کہنا تھا کہ وہ یہ سب اپنی مرضی سے نہیں کر رہا تھا۔‘ ان کے مطابق وہ تہران میں اپنے خاندان کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
آصف مرچنٹ کا کہنا ہے کہ انھیں کسی خاص فرد کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان کے ایرانی رابطہ کار نے تہران میں ہونے والی بات چیت میں تین افراد کے نام لیے تھے۔
ان میں ٹرمپ، بائیڈن اور نکی ہیلی کا نام بھی تھا، جنھوں نے سنہ 2024 کے صدارتی الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کی کوشش کی تھی شامل تھے۔
آصف مرچنٹ نے بتایا کہ ان کی دو بیویاں اور پانچ بچے ہیں، ایک بیوی پاکستانی اور دوسری ایرانی ہیں جن سے وہ کربلا، عراق کے مذہبی سفر کے دوران ملے
امریکی محکمہ انصاف کی دستاویزات کے مطابق آصف مرچنٹ کا پورا نام آصف رضا مرچنٹ ہے اور وہ پاکستانی شہری ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق اپریل 2024 کے دوران آصف مرچنٹ نے ایران میں کچھ وقت گزارا اور اس کے بعد وہ پاکستان سے امریکہ آئے
ذرائع کے مطابق امریکا نے گرفتار آصف مرچنٹ کے غیرملکی دوروں اور پاکستانی رابطوں کی تفصیل بھی مانگی ہے۔
ذرائع کے مطابق آصف مرچنٹ نے کراچی میں اپنے ماموں سے 5 ہزار ڈالر منگوائے۔
ذرائع کے مطابق آصف مرچنٹ نے سال 2015 سے سال 2024 تک ایران، عراق اور یمن کے کم از کم 15 دورے کیے جبکہ وہ 2013
اور 2017 میں امریکا بھی جا چکا ہے۔
آصف مرچنٹ کراچی کے شہری ہیں ہے اور اس حوالے سے سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف رضا مرچنٹ کا کراچی میں اب تک کوئی کرمنل ریکارڈ سامنے آیا ہے اور نہ ہی ان کے پاکستان میں کسی جرم میں ملوث ہونے کا پتا چلا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


