امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump نے ایک انٹرویو میں ایران کے تیل اور اہم تنصیبات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔آخر خارگ جزیرہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اتنا اہم کیوں ہو گیا کہ وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔
خارگ پر قبضہ کی چالیس سال پرانی خواہش
خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کے لیے صدر ٹرمپ نے چالیس سال پہلے بھی اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
چالیس سال قبل ایران عراق جنگ کے دوران گارڈین اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ(اس وقت ایک کاروباری شخصیت) نے کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیا تو جزیرہ خارگ پر قبضہ کر لیا جائے گا۔
یہ وہ وقت تھا، جب ٹرمپ نے سیاست میں قدم نہیں رکھا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا پسندیدہ آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ ایران کا تیل اپنے کنٹرول میں لے لے۔ ان کے مطابق امریکہ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، جن میں ایران کے اہم تیل کے مرکز Kharg Island پر قبضہ کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس جزیرے کا دفاع کمزور ہے اور امریکہ اسے آسانی سے حاصل کر سکتا ہے۔اس پر کنٹرول کے لیے کچھ عرصے تک امریکی موجودگی ضروری ہوگی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکی فوج کی اضافی نفری بھی خطے میں پہنچ چکی ہے، جس سے ممکنہ تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
خارگ جزیرہ ایران کے لیے کیوں اہم ہے ؟
خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ یہ ایران کی معشیت کے لیے لائف لائن کی حثیت رکحٹا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔
خارگ ایسا جزیرہ ہے جہاں سے ملک کا تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی اس جزیرے کو اسٹریٹجک ہدف سمجھا جاتا رہا ہے، حتیٰ کہ Iran-Iraq War کے دوران عراق نے اس پر ہزاروں حملے کیے تھے۔

یہ جزیرہ خلیج فارس میں واقع ہے اور رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ہونے کے باوجود تیل کی ذخیرہ اندوزی اور برآمد کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
یہاں بڑے آئل ٹینکرز کے لیے گہرے پانی کی سہولت، وسیع سٹوریج ٹینکس، اور زیرِ سمندر پائپ لائنز کے ذریعے تیل کی ترسیل کا نظام موجود ہے۔ خارگ کے قریب Abu Zar Oil Field بھی واقع ہے جو ایران کی بڑی آف شور تیل پیداوار کا مرکز ہے۔
جزیرے میں تیل ذخیرہ کرنے کے لیے درجنوں بڑے ٹینک موجود ہیں جن میں کروڑوں بیرل خام تیل رکھا جا سکتا ہے۔ یہاں تیل کی پیمائش، علیحدگی اور برآمد سے قبل پراسیسنگ کا مکمل نظام بھی موجود ہے۔
خارگ جزیرے مین ایک چھوٹا ائِر پورٹ بھی واقع ہے جس کو تیل کمپیناں استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے علاوہ خارگ میں پیٹروکیمیکل صنعت، بین الاقوامی معیار کی لیبارٹری، اور ایک یونیورسٹی بھی قائم ہے جہاں پیٹرولیم اور سمندری علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔
خارگ کہاں واقع ہے اور پاکستان کے لیے اہمیت

ایران کا اہم تیل بردار جزیرہ Kharg Island خلیجِ فارس (Persian Gulf) میں واقع ہے۔ یہ ایران کے جنوبی صوبے بوشہر (Bushehr) کے ساحل سے تقریباً 25 کلومیٹر دور سمندر میں موجود ہے۔
جغرافیائی لحاظ سے یہ ایران کے جنوب مغربی حصے میں آتا ہے اور تیل کی برآمد کے لیے انتہائی اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔
اگر پاکستان سے فاصلے کی بات کریں تو پاکستان کے شہر کراچی Karachi سے خارگ جزیرہ تقریباً 1,200 سے 1,300 کلومیٹر دور ہے۔فضائی (ہوائی) سیدھا فاصلہ اس کے قریب قریب ہی بنتا ہے، جبکہ سمندری راستہ اس سے کچھ زیادہ ہو سکتا ہے۔
اس نوعیت سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر امریکہ اس جزیرے پر قبضہ کرتا ہے تو پاکستان پر بھی اثر پڑے گا۔
خارگ کا قدرتی ماحول اور ہرنوں کی بہتات
قدرتی طور پر یہ جزیرہ نہ صرف صنعتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ یہاں ہرنوں کی بڑی تعداد بھی پائی جاتی ہے، جو اسے ایک منفرد ماحولیاتی پہلو بھی دیتی ہے۔
محدود رقبے اور سخت موسمی حالات کے باوجود خارگ ایران کی توانائی معیشت کا مرکزی ستون ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی سطح پر بھی خاص توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔
خارگ جزیرہ صدیوں سے موجود ہے اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک بڑا آبی راستہ ہے اور ایران کی معشیت کے لیے یہ لائف لائن ہے ۔اگر صدر ٹرمپ اس جزیرے پر قبضہ کر تے ہیں جس کا انہوں نے چالیس سال قبل خواہش کا اظہار کیا تھا تو یقیناً ایران کی معشیت کی کمر ٹوٹ جائے گی لیکن ایسا ہونا فی الحال ممکن نہیں کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کی طرح یہاں بھی مکمل حفاظتہ بندوبست کر رکھا ہے۔
صدر ٹرمپ وینزویلا کی طرز پر اگر یہاں کاروائی کی کوشش کریں گے تو شاید اس مرتبہ ان کو ماضی کی نسبت مختلف جواب ملے گا ۔امریکہ تیل پر کنٹرول چاہتا ہے لیکن اس یہاں امریکہ کی کامیابی کے اثار کم ہیں یہاں شاید امریکہ کو سالوں جنگ میں رہنے پڑا۔
اگر اس کا محل وقع دیکھیں تو اس سے چین پاکستان اور ایشیا متاثر ہو گا ایرانی تیل کا بڑا حصہ چین کو جاتا ہے اور امریکہ کو تیل پر قبضہ حاصل کر کے سپر پاور بننے شو کرنے کے لیے بھی یہ اقدام اٹھانا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئیں


