واشنگٹن: امریکہ کی سپریم کورٹ نے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ صدر نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا pic.twitter.com/wdLR8Byihe
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) February 20, 2026
عدالت کا کہنا ہے کہ درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کا اختیار آئین کے تحت کانگریس کو حاصل ہے، نہ کہ صدر کو۔ فیصلے میں کہا گیا کہ 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کو اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ قانون صرف قومی ہنگامی صورتحال سے متعلق مخصوص اختیارات دیتا ہے، نہ کہ وسیع اور غیر محدود تجارتی پابندیوں کی اجازت۔
ججز کی تقسیم: قدامت پسند اور لبرل ججز ایک صف میں
فیصلے کے حق میں تین لبرل ججز — کیتنجی براؤن جیکسن، ایلینا کیگن اور سونیا سوتومئیر — نے ووٹ دیا، جبکہ ان کے ساتھ تین قدامت پسند ججز، ایمی کونی بیریٹ، نیل گورسچ اور چیف جسٹس جان رابرٹس بھی شامل تھے۔
دوسری جانب جسٹس بریٹ کاوانا، سیموئل الیٹو اور کلیرنس تھامس نے اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے فیصلے سے عدم اتفاق کیا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عدالت میں قدامت پسند ججز کی اکثریت کے باوجود صدر کے اقدام کو مسترد کر دیا گیا، جسے ماہرین صدر کے ایگزیکٹو اختیارات پر ایک غیر معمولی قدغن قرار دے رہے ہیں۔
تجارتی پالیسی پر ممکنہ اثرات
یہ ٹیرف کینیڈا، میکسیکو اور چین سمیت مختلف ممالک پر عائد کیے گئے تھے، جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی امریکہ آمد کے تناظر میں ضروری قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے وسیع تجارتی اقدامات ختم ہو گئے ہیں، اور اب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ پہلے سے وصول کیے گئے ٹیرف کی واپسی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر کے پاس دیگر قانونی راستے موجود ہیں جن کے ذریعے وہ دوبارہ ٹیرف نافذ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم ان کے لیے کانگریس کی منظوری یا محکمہ تجارت کی باضابطہ تحقیقات درکار ہو سکتی ہیں، جس سے عمل سست پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ریاست جارجیا میں خطاب کرتے ہوئے ٹیرف کا بھرپور دفاع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیرف نافذ نہ کیے جاتے تو "سب دیوالیہ ہو جاتے”۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بطور صدر انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ محصولات مقرر کریں کیونکہ "قانون کی زبان بالکل واضح ہے”۔
تاہم عدالتی فیصلے کے بعد صدر کی جانب سے باضابطہ ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا۔
آئندہ قانونی چیلنجز
سپریم کورٹ کے سامنے اس وقت صدر کے اختیارات سے متعلق دیگر اہم مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں، جن میں پیدائشی شہریت کے حق سے متعلق معاملہ اور فیڈرل ریزرو کے ایک گورنر کی برطرفی کا کیس شامل ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق حالیہ فیصلہ مستقبل میں ایگزیکٹو پاور کے استعمال کی حدود کو مزید واضح کرے گا اور ممکن ہے کہ آنے والے مہینوں میں صدر کو مزید قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے۔
یہ فیصلہ نہ صرف امریکی تجارتی پالیسی کے لیے اہم ہے بلکہ صدر اور کانگریس کے اختیارات کے توازن کے حوالے سے بھی ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


