اردو رپورٹ ڈیسک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ایک بڑے تیل معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے امریکا کے تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ ہوجائیں گے اور ملک میں تیل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ٹرمپ کا پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ
ٹرمپ نے جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ امریکی ٹیکس دہندگان پر کوئی اضافی بوجھ ڈالے بغیر طے پایا ہے۔
ان کے مطابق معاہدے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز اور نجی شعبے نے کردار ادا کیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تیل کی اضافی فراہمی کے نتیجے میں امریکا میں تمام شہریوں کے لیے پیٹرول کی قیمتیں طویل عرصے تک نمایاں طور پر کم رہیں گی۔
Trump drops ‘BIGGEST OIL DEAL IN WORLD HISTORY’ — ‘BREAKING NEWS’
‘Secured majority U.S. control of more than 65 BILLION BARRELS of proven Oil Reserves in Venezuela’ pic.twitter.com/3Atq9aqekj
— RT (@RT_com) August 28, 2026
امریکا میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا۔
روبیو کے مطابق اس معاہدے سے مغربی نصف کرۂ ارض میں مستحکم تیل کے ذخائر اور کم لاگت والا تیل دستیاب ہوگا، جبکہ امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ وینزویلا میں نجی شعبے کی جانب سے تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ان کے مطابق اس سرمایہ کاری سے ہزاروں بہتر معاوضے والی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور وینزویلا کی معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی۔
وینزویلا میں 17 تیل منصوبوں کی ترقی
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ معاہدے کے تحت نجی کمپنیوں کی شمولیت سے ملک میں تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
ان کے مطابق 17 اہم تیل کے شعبوں کو ترقی دی جائے گی، جن میں مجموعی طور پر 65 ارب بیرل تیل کے ثابت شدہ امکانات موجود ہیں۔
روڈریگیز نے کہا کہ ان منصوبوں میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوگی۔ ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری وینزویلا کی تیل کی صنعت کی بحالی، جدید خطوط پر استوار کرنے، ملکی معاشی ترقی، خطے کی توانائی سلامتی اور عالمی تیل منڈی میں زیادہ توازن پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
معاہدے کی اہم تفصیلات ابھی واضح نہیں
تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔ خاص طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکا کو وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر ’اکثریتی کنٹرول‘ کس طریقے سے حاصل ہوگا اور اس انتظام کے تیل کی پیداوار اور ذخائر پر عملی اثرات کیا ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی اس حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے کی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔


