اردو رپورٹ ڈیسک
متحدہ عرب امارات نے شاندار تعلیمی کارکردگی دکھانے والے ثانوی اسکول کے طلبہ کے لیے 5 سالہ گولڈن رہائشی ویزا متعارف کرا دیا ہے۔ اس سہولت کے تحت اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں رہائش اختیار کر سکیں گے اور اس کے لیے مقامی کفیل کی ضرورت نہیں ہوگی۔
متحدہ عرب امارات کی وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی نے طلبہ کے لیے طویل مدتی رہائش کے اس نئے راستے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
5 سالہ رہائش کی سہولت
اس پروگرام کے تحت اہل طلبہ کو 5 سال کی رہائش دی جائے گی، جبکہ ان کے والدین اور بہن بھائی بھی اس رہائشی انتظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
گولڈن رہائش طلبہ کو روایتی کفیل یا آجر کی ضرورت کے بغیر تعلیم، ملازمت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے زیادہ سہولت فراہم کرتی ہے۔
اہلیت کے لیے 95 فیصد نمبر لازمی
5 سالہ گولڈن رہائش کے لیے درخواست دینے والے طلبہ کو تعلیمی کارکردگی سے متعلق اہم شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ثانوی اسکول کے امتحانات میں کم از کم 95 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی وزارت تعلیم کی جانب سے سفارشی خط بھی درکار ہوگا۔
طلبہ کو اپنے تعلیمی اسناد، حاصل کردہ نمبروں کا سرکاری ثبوت اور متعلقہ اسکول یا تعلیمی ادارے کی جانب سے تصدیقی اور سفارشی دستاویزات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
غیر معمولی صلاحیتوں کو راغب کرنے کا پروگرام
یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے وسیع تر گولڈن رہائشی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے افراد، پیشہ ور افراد اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گریجویٹس کو طویل مدتی رہائش کی سہولت فراہم کرکے غیر معمولی صلاحیتوں کو ملک کی جانب راغب کرنا ہے۔
پاکستانی طلبہ کے لیے موقع
اس اعلان سے پاکستانی طلبہ کو بھی متحدہ عرب امارات میں مزید تعلیم حاصل کرنے اور مستقبل میں طویل مدتی رہائش اختیار کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔


