واشنگٹن: امریکی محکمہ جنگ (U.S. Department of War) کی جانب سے جاری کردہ نئی UAP دستاویزات میں خلیجِ عمان کے اوپر پیش آنے والا ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز کے ایک AC-130J گن شپ طیارے کے عملے نے آسمان پر متعدد گول نما نامعلوم اشیا کا مشاہدہ کیا۔
سرکاری ریکارڈ میں ان اشیا کو “Cold Orbs” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مشاہدات 8 ستمبر 2021 کو ایک فوجی لائیو فائر مشق کے دوران کیے گئے، جب امریکی طیارہ خلیجِ عمان کے علاقے میں آپریشنل سرگرمی میں مصروف تھا۔
گول جسم کا۔مشاہدہ
دستیاب دستاویزات کے مطابق اس فوجی مشق کے دوران عملے نے تقریباً 25 مرتبہ نامعلوم اشیا کا مشاہدہ کیا۔ رپورٹ میں ان objects کو گول یا orb نما بیان کیا گیا ہے اور ان کی حرکت، رفتار اور maneuvering نے فوجی عملے کی توجہ حاصل کی۔ بعض observations میں اشیا مختلف سمتوں میں حرکت کرتی دکھائی دیں جبکہ ان کے بارے میں اندازہ لگایا گیا کہ بعض اوقات ان کی رفتار تقریباً 250 سے 1,300 میل فی گھنٹہ تک ہوسکتی تھی۔
تاہم ماہرین کے مطابق sensor سے حاصل ہونے والی کسی بھی رفتار کو حتمی سمجھنے سے پہلے object کے فاصلے، viewing angle، aircraft کی اپنی رفتار اور sensor limitations کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
خلائی مخلوق کا مشاہدہ
اس واقعے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ نامعلوم اشیا کو “Cold Orbs” کہا گیا۔ یہاں ’’Cold‘‘ سے مراد یہ نہیں کہ فوج نے ایسی ٹھنڈی دھاتی گیندیں دریافت کیں جو جسمانی طور پر ٹھنڈی تھیں، بلکہ یہ اصطلاح ان کے infrared یا thermal sensor signature سے متعلق ہے۔
دوسرے الفاظ میں فوجی sensor پر یہ اشیا اپنے اردگرد کے ماحول کے مقابلے میں مختلف حرارتی خصوصیات کے ساتھ نظر آئیں۔ یہی thermal appearance ان کے مشاہدے کو عام بصری UFO sighting سے مختلف بناتی ہے۔
واقعے کا سب سے زیادہ حیران کن پہلو امریکی گن شپ کی فائرنگ کے ساتھ ان اشیا کی مبینہ حرکت ہے۔ رپورٹ میں ایسے مشاہدے کا ذکر کیا گیا ہے جس میں فوجی طیارے کی main cannon سے فائرنگ کے بعد ایک نامعلوم object کی حرکت میں تبدیلی محسوس ہوئی۔
اس observation نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا object نے فائرنگ کو محسوس کرتے ہوئے اپنا راستہ تبدیل کیا تھا۔ تاہم سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس نے واقعی فائرنگ کا جواب دیا۔ sensor tracking، perspective، فاصلے کے اندازے یا دیگر فضائی عوامل بھی ایسی حرکت کی وضاحت کرسکتے ہیں۔
کولڈ اربز کی ویڈیوز
Cold Orbs کے واقعے سے متعلق بعض ویڈیوز بھی عوامی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ ان میں ایسی recordings شامل ہیں جو براہ راست عام کیمرے سے بنائی گئی واضح ویڈیو کے بجائے طیارے کے sensor display کی cellphone recordings ہیں۔ اس وجہ سے ویڈیو میں نظر آنے والے objects کی شکل، فاصلے اور حقیقی رفتار کا درست تعین آسان نہیں۔
ماہرین کے لیے کسی UAP کی شناخت کے لیے صرف ویڈیو کافی نہیں ہوتی بلکہ radar data، infrared information، flight path، weather conditions اور دیگر sensors سے حاصل ہونے والی معلومات بھی انتہائی اہم ہوتی ہیں۔
اس واقعے کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر یہ اشیا کیا تھیں۔ ممکنہ وضاحتوں میں ڈرونز، بالونز، پرندے، دیگر فضائی پلیٹ فارمز یا sensor-related phenomena شامل ہوسکتے ہیں۔ جدید فوجی sensors انتہائی حساس ہوتے ہیں اور مختلف ماحولیاتی حالات میں دور موجود objects کی تصویر اور حرکت کبھی کبھی اس انداز میں ظاہر ہوسکتی ہے جس سے ان کی حقیقی نوعیت سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
اسی لیے کسی نامعلوم object کو صرف اس بنیاد پر extraterrestrial technology قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اسے فوری طور پر شناخت نہیں کیا جاسکا۔
کیا خلائی مخلوق کا طیارہ تھا
امریکی UAP تحقیقات میں “Unidentified” یا “Unresolved” کی اصطلاح کا مطلب بھی یہی ہے کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر object کی حتمی شناخت نہیں ہوسکی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی حکومت نے اسے خلائی مخلوق کا طیارہ قرار دے دیا ہے۔ Cold Orbs کیس کے بارے میں بھی اب تک ایسی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں کہ یہ objects زمین سے باہر کسی تہذیب یا extraterrestrial spacecraft سے تعلق رکھتے تھے۔
تاہم اس کیس کی اہمیت اس حقیقت میں ضرور ہے کہ مشاہدات ایک فعال امریکی فوجی مشق کے دوران ہوئے، متعدد observations رپورٹ کیے گئے اور فوجی sensors نے بھی ان اشیا کو ریکارڈ کیا۔
اس کے باوجود ان کی قطعی شناخت نہ ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ Cold Orbs کا واقعہ امریکی UAP تحقیقات میں دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔
خلائی
خلائی مخلوق کی کہانیاں
خلیجِ عمان کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں UAPs کے بارے میں بحث دوبارہ تیز ہوگئی ہے۔ امریکی حکومت گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے متعدد فوجی مشاہدات کے ریکارڈ عوام کے سامنے لا رہی ہے جنہیں ماضی میں خفیہ یا محدود رسائی والی دستاویزات کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔
ان ریکارڈز کا مقصد ضروری نہیں کہ UFOs کی موجودگی ثابت کرنا ہو بلکہ یہ سمجھنا بھی ہے کہ نامعلوم فضائی سرگرمیاں امریکی فوجی تنصیبات، طیاروں اور قومی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ تو نہیں۔
Cold Orbs کی کہانی میں سب سے اہم سوال اب بھی وہی ہے جو پہلی بار اس وقت پیدا ہوا تھا جب امریکی گن شپ کے عملے نے آسمان میں ان پراسرار گول اشیا کو دیکھا تھا: اگر یہ نہ ڈرون تھے، نہ بالون اور نہ کوئی شناخت شدہ فضائی پلیٹ فارم، تو پھر یہ آخر کیا تھے؟
حتمی رائے
فی الحال امریکی سرکاری ریکارڈ اس سوال کا حتمی جواب نہیں دیتا۔ ’’Cold Orbs‘‘ ایک غیر شناخت شدہ فضائی مشاہدہ ہے، خلائی مخلوق کی تصدیق شدہ موجودگی نہیں۔
لیکن جدید فوجی sensors کے سامنے آنے والا یہ واقعہ اس بحث کو ضرور زندہ رکھتا ہے کہ ہمارے آسمانوں میں ایسی کون سی فضائی سرگرمیاں موجود ہیں جنہیں جدید ترین ٹیکنالوجی بھی ہمیشہ فوری طور پر شناخت نہیں کر پاتی۔


