دادو سندھ کی تحصیل میہڑ میں 8 سال قبل دن دیہاڑے مارے گئے 3 افراد کے قاتل انجام کو نہ پہنچ سکے۔ پیپلزپارٹی کے دو ایم پی ایز سمیت ہائی پروفائل کیس کے آٹھ ملزمان کو ماڈل کورٹ نے عدم ثبوتوں کی بنا پر بری کردیا۔
مقتول کی بیٹی اُم رباب چانڈیو 8 برس تک اپنے باپ دادا اور چچا کے قتل کا مقدمہ لڑتی رہی ۔عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
ہائی پروفائل کیس میں ضلع دادو کی ماڈل کورٹ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔عدالت نے پیپلزپارٹی کے دو اراکین سندھ اسمبلی سمیت 8 ملزموں کو تین افراد کے قتل سے 8 سال بعد بری کردیا ۔
اُمِ رباب کا مؤقف شروع سے یہی رہا کہ اس کے والد، دادا اور چچا کے قتل میں بااثر وڈیرے اور پیپلز پارٹی سے وابستہ افراد ملوث ہیں۔ وہ برسوں تک انصاف کے لیے لڑتی رہی، مگر آج عدالت نے انہی بااثر سرداروں کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر باعزت بری کر دیا۔ pic.twitter.com/O1nkVFedsN
— Urdu Report (@UrduReportpk) March 30, 2026
مدعیہ ام رباب چانڈیو کے وکیل کہتے ہیں عدالت نے شواہد کو نظرانداز کیا ۔ فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔
تین افراد کا دن دیہاڑے قتل میں عینی شاہد بھی موجود تھے۔ طبی شواہد بھی میز پر لیکن کوئی ایک بھی مجرم نہیں ٹہرا۔ دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام 8 ملزمان کو بری کردیا۔
ہائی فروفائل قتل کیس کی تفصیل
واضح رہے کہ 17 جنوری 2018 میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے تین افراد کو قتل کر دیا۔مقتولین میں تمندار کاؤنسل کے چیئرمین مختیار چانڈیو، قابل خان اور کرم اللہ چانڈیو کو قتل کردیا تھا ۔
واقعے کا مقدمہ ابتدائی طور پر سات افراد کیخلاف درج کیا گیا تھا۔ سہولتکاری کے الزام پر ایس ایچ او کریم بخش چانڈیو اور عبدالستار چانڈیو کو بھی نامزد کیا گیا ۔ ایک حملہ آور اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا تھا ۔ نامزد ملزمان میں پیپلزپارٹی کے ایم پی اے سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو بھی شامل تھے ۔ مقتولین کے ورثا نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھئِے


