امریکہ کئی دہائیوں تک غیر ملکی سربراہان کو براہِ راست نشانہ بنانے سے گریز کرتا رہا، کیونکہ سی آئی اے کی خفیہ کارروائیوں کے ماضی کے تلخ تجربات اور غیر متوقع نتائج نے واشنگٹن کو محتاط بنا دیا تھا۔
تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اس رائی ل کے ساتھ مل کر، کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کو کھلے عام نشانہ بنایا۔
دو ماہ میں دو حکومتوں کا خاتمہ

حالیہ پیش رفت کے بعد امریکہ نے صرف دو ماہ میں اپنے دو مخالف ممالک کی قیادت کا خاتمہ کیا ہے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نیویارک میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں۔
دونوں ممالک وسیع تیل کے ذخائر کے باعث عالمی سیاست میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
امریکی قانون میں قتل کی ممانعت مگر بدلتے حالات
امریکی قانون میں سیاسی قتل پر پابندی موجود ہے۔ سابق صدر رونالڈ ریگن نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس پابندی کو مضبوط کیا تھا، جو آج بھی تکنیکی طور پر نافذ ہے۔

تاہم 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد کانگریس نے دہشت گردی کے خلاف وسیع اختیارات فراہم کیے، جس کے بعد امریکی صدور نے دہشت گرد تنظیموں کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا، جن میں اسامہ بن لادن شامل ہیں۔
گرچہ اسامہ بن لادن سربراہ مملکت نہیں تھے تاہم امریکہ ان کو اپنی لیے بڑا خطرہ قرار دیتا تھا۔
اسامہ بن لادن کو پاکستان میں ایبٹ آباد سے ایک امریکی اپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا اور ان کی لاش کو سمندر برد کر دیا گیا۔
ٹرمپ کا مؤقف: ’میں نے پہلے وار کیا‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ خیمنہ آئی کارروائی کو "قتل” قرار نہیں دیا، بلکہ ایران کی جانب سے مبینہ خطرات کو جواز بنایا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران ایک "فوری خطرہ” تھا۔ بعد ازاں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: "میں نے اسے مارا اس سے پہلے کہ وہ مجھے مارتا۔”
مبصرین کے مطابق وہ 2024 میں سامنے آنے والی ان اطلاعات کا حوالہ دے رہے تھے جن میں ایران پر ان کے خلاف سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کی ایران نے تردید کی تھی۔
ماضی کی مثالیں: مقدمات اور تختہ الٹنے کی تاریخ

امریکہ اس سے قبل براہِ راست قتل کے بجائے حکومتوں کے خاتمے یا عدالتی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
لیبیا کے رہنما معمر قذافی انقلابی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔
اسی طرح 1953 میں ایران کے وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کے خاتمے میں امریکی کردار کا بعد میں اعتراف کیا گیا۔
سابق عراقی صدر صدام حسین کے با رئے میں امریکی پالیسی

امریکہ نے عراق جنگ میں عراقی صدر صدام حسین کے خلاف عدالتی کیسز بنوائے،عراق کے سابق صدر صدام حسین کو امریکی حملے کے بعد عراقی عدالت نے پھانسی دی۔
صدام حسین کے بارئے میں امریکہ کا فیصلہ مختلف تھا جیسا کہ ایران میں علی خامنہ آئی کے بارئے میں کیا گیا۔
امریکہ نے پہلے ہی دن خامنہ آئی پر حملہ کیا اور ان کو شہید کیا۔
قتل کی مخالفت: چرچ کمیٹی کی رپورٹ
واٹرگیٹ اسکینڈل کے بعد قائم ہونے والی چرچ کمیٹی نے امریکی خفیہ اداروں کی کارروائیوں کا جائزہ لیا اور سیاسی قتل کی سخت مخالفت کی۔
سابق صدر جان ایف کینیڈی کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ اس راستے پر چلا تو سب نشانہ بن سکتے ہیں۔
سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ ہیلمز نے بھی گواہی میں کہا تھا کہ کسی رہنما کو ہٹانے کے بعد یہ واضح نہیں ہوتا کہ حالات بہتر ہوں گے یا مزید خراب۔
نئی ٹیکنالوجی اور جدید جنگ

اوباما دور میں ڈرون حملوں کا استعمال بڑھا، جبکہ حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی نے اہداف کو نشانہ بنانا مزید آسان بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خامنہ ای کی نقل و حرکت پر کڑی نگرانی رکھی گئی تھی اور مناسب موقع ملنے پر کارروائی کی گئی۔
عالمی سیاست کا نیا مرحلہ
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں امریکہ کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی اہم فیصلے کر رہا ہے۔
ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کو نشانہ بنانے کا فیصلہ طویل المدتی اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے

