کاراکاس: وینزویلا میں آنے والے دو شدید زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 164 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ ان کے مطابق رہائشی عمارتوں، ہسپتالوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
حکومت نے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر کے ابتدائی فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے بین الاقوامی مالی وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ یہ رقم انفراسٹرکچر، طبی سہولیات اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔
جیالوجیکل سروے کی رپورٹ
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شام پہلے 7.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے صرف ایک منٹ بعد 7.5 شدت کا دوسرا اور زیادہ طاقتور جھٹکا محسوس کیا گیا۔ زلزلوں کا مرکز وینزویلا کے کیریبین ساحلی علاقے مورون کے قریب تھا جبکہ جھٹکے ملک کے بڑے حصے میں محسوس کیے گئے۔
سب سے زیادہ نقصان ریاست لا گوائرا اور دارالحکومت کاراکاس کے اطراف میں رپورٹ ہوا، جہاں متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ کئی علاقوں میں بجلی، موبائل فون سروس اور گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی جبکہ میٹرو سروس عارضی طور پر بند کر دی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق زلزلے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور ہزاروں افراد رات بھر گھروں سے باہر کھلے مقامات پر موجود رہے۔ بعض علاقوں میں سڑکیں ملبے اور گرے ہوئے بجلی کے کھمبوں کے باعث بند ہو گئیں۔
زلزلوں کے اثرات
زلزلوں کے اثرات پڑوسی ممالک تک محسوس کیے گئے۔ کولمبیا کے بعض علاقوں میں بھی جھٹکے ریکارڈ کیے گئے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکی پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے ابتدائی طور پر سونامی سے متعلق انتباہ جاری کیا تھا، جسے بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔
پاکستان سمیت متعدد ممالک نے وینزویلا کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرین کے لیے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے وینزویلا کے عوام کے ساتھ مکمل تعاون اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ زلزلے وینزویلا کی حالیہ تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جنہوں نے ملک کے کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔


