• Home  
  • برطانیہ میں مردہ ڈونر کے رحم سے پیدا ہونے والا پہلا بچہ، طبی میدان میں بڑی کامیابی
- خواتین کارنر

برطانیہ میں مردہ ڈونر کے رحم سے پیدا ہونے والا پہلا بچہ، طبی میدان میں بڑی کامیابی

لندن میں ایک شاندار طبی کامیابی نے تاریخ رقم کر دی ، جہاں پر ایک برطانوی خاتون نے مُردہ ڈونر سے منتقل کی گئی بچہ دانی کے ذریعے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق نومولود بچے، ہیگو پاؤل، کی پیدائش کو جدید طب کا معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بچہ […]

لندن میں ایک شاندار طبی کامیابی نے تاریخ رقم کر دی ، جہاں پر ایک برطانوی خاتون نے مُردہ ڈونر سے منتقل کی گئی بچہ دانی کے ذریعے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق نومولود بچے، ہیگو پاؤل، کی پیدائش کو جدید طب کا معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بچہ کوئین شارلٹس اینڈ چیلسی ہسپتال، لندن میں پیدا ہوا۔

برطانیہ میں پہلی بار ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی ہے جو مردہ ڈونر کی بچہ دانی (رحم) کی پیوندکاری کے بعد پیدا ہوا۔

نومولود بچے ہیوگو کی والدہ گریس بیل، جو تیس کی دہائی میں ہیں، پیدائشی طور پر رحم سے محروم تھیں۔

ہیوگو کی پیدائش سنہ 2025 کے کرسمس سے کچھ روز ہوئی۔ پیدائش کے وقت اس کا وزن تقریباً سات پاؤنڈ تھا اور اب وہ 10 ہفتے کا ہو چکا ہے۔

گریس بیل نے اپنے بیٹے کو ’ایک معجزہ‘ قرار دیتے ہوئے ڈونر اور اس کے خاندان کی ’ناقابل یقین مہربانی اور ایثار‘ پر اظہارِ تشکر کیا۔

ایم آر کے ایچ سنڈروم کیا ہے؟

گریس بیل ان تقریباً پانچ ہزار برطانوی خواتین میں شامل ہیں جو Mayer-Rokitansky-Küster-Hauser syndrome (ایم آر کے ایچ) سنڈروم کا شکار ہوتی ہیں۔ اس عارضے میں لڑکیاں پیدائشی طور پر رحم کے بغیر پیدا ہوتی ہیں، اگرچہ ان کی بیضہ دانیاں معمول کے مطابق کام کرتی ہیں۔ بیل کو 16 برس کی عمر میں بتایا گیا تھا کہ وہ کبھی خود بچہ پیدا نہیں کر سکیں گی۔

10 گھنٹے طویل آپریشن

جون 2024 میں آکسفورڈ کے چرچل ہسپتال میں گریس بیل کے جسم میں رحم کی پیوندکاری کا 10 گھنٹے طویل آپریشن کیا گیا۔ اس کے بعد جوڑے نے In vitro fertilisation (آئی وی ایف) کے ذریعے ایمبریو تیار کر کے ٹرانسفر کروایا، جس کے نتیجے میں حمل ٹھہرا اور ہیوگو کی پیدائش ممکن ہوئی۔

بیل کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے پہلی بار اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا تو انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ حقیقت ہے۔

طبی ماہرین کا ردعمل

Imperial College Healthcare NHS Trust سے وابستہ کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ پروفیسر Richard Smith، جو رحم کی پیوندکاری پر 25 برس سے تحقیق کر رہے ہیں، نے اس پیدائش کو ’انقلابی لمحہ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ان خواتین کے لیے امید کی کرن ہے جو رحم کے بغیر پیدا ہوتی ہیں۔

ٹرانسپلانٹ سرجن ازابیل کیروگا کے مطابق یورپ میں مردہ ڈونر کے رحم سے بچوں کی پیدائش کے واقعات انتہائی کم ہیں اور یہ کامیابی برطانیہ میں اعضا کی پیوندکاری کے میدان میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

تحقیق اور مستقبل کے امکانات

برطانیہ میں جاری کلینیکل ریسرچ ٹرائل کے تحت اب تک تین رحم کی پیوندکاریاں کی جا چکی ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ مردہ ڈونر کے رحم سے بچہ پیدا ہوا ہے۔

عالمی سطح پر اب تک 100 سے زائد رحم کی پیوندکاریاں ہو چکی ہیں جن کے نتیجے میں 70 سے زیادہ صحت مند بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے بچوں کا ڈونر سے کوئی جینیاتی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ حمل آئی وی ایف کے ذریعے ماں کے اپنے انڈوں اور باپ کے سپرم سے قائم کیا جاتا ہے۔

ڈونر کے اہل خانہ نے گمنام رہنے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے اپنی بیٹی کے ’ورثے‘ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعضا کے عطیے کے ذریعے اس نے دیگر خاندانوں کو امید، شفا اور زندگی کا تحفہ دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں مزید بچے پیدا کرنے کا فیصلہ نہ کیا گیا تو مریضہ کے جسم سے پیوند شدہ رحم نکال دیا جائے گا تاکہ طویل مدتی ادویات کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔

یہ پیش رفت اُن ہزاروں خواتین کے لیے امید کی نئی راہ کھول سکتی ہے جو پیدائشی طور پر رحم کے بغیر پیدا ہوتی ہیں اور ماں بننے کا خواب دیکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئیے

سعودی عرب میں اب اونٹوں کو بھی پاسپورٹ جاری ہو ں گے

روس کی فضاؤں میں نایاب نظارہ اکھٹے چار چاند نظر آنے کا منظر ریکارڈ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں