اردو سپیشل رپورٹ
نیو دہلی کی تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ محمد یاسین ملک نے اپنے بیانِ حلفی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے وہ ان سے معمول کے مطابق رابطہ نہیں کر سکے، جبکہ طویل قید اور حالات نے ان کی خاندانی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی اہلیہ اپنی باقی زندگی ان کے حالات کا بوجھ اٹھاتے ہوئے گزاریں۔
محمد یاسین ملک کے 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی نے ان کی بیوی بچوں سے علیحدگی ،طویل قید، مقدمات اور کشمیر تنازع کے انسانی اثرات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک نے یہ بیانِ حلفی اپنے قریب ترین تین افراد، یعنی اپنی والدہ، اہلیہ مشعال ملک اور 13 سالہ بیٹی راضیہ سلطانہ کے نام ایک پیغام کے طور پر تحریر کیا ہے۔
بیٹی کا ویڈیو بیان
محمد یاسین ملک کا بیان حلفی ان کے ایک دوست کے ذریعے سوشل میڈیا پر شئِر ہوا تاہم ان کے بیان حلفی کے سامنے آنے کے بعد ان کی بیٹی کی ایک جذباتی ویڈیوسامنے آئی جس میں انہوں نے بتایا کہ جب ان کی والدہ مشعال ملک کو اس کا پتہ پتہ تو وہ صدمے میں چلی گئِ اور اور بے ہوش ہو گئی۔
بیٹی نے کہا کہ کیا اپ نے مرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کیا بس اپ کی جدوجہد اتنی ہی تھی یہ خود کشی ہے ۔
حریت رہنما یاسین ملک کا بیان حلفی، اہلیہ کو نکاح سے آزاد کرنے کا فیصلہ اور یاسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطان کا دل دہلا دینے والا ویڈیو پیغام!
یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل۔مبینہ بیانِ حلفی، مشعال ملک کو نکاح سے آزاد کرنے کا تلخ فیصلہ، بیٹی کے نام بھی درد بھرا پیغام pic.twitter.com/e4Q6TDEWqX
— Urdu Report (@UrduReportpk) September 1, 2026
بیوی کو آزاد کرنے کا فیصلہ
بیانِ حلفی میں یاسین ملک نے واضح طور پر کہا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے لیے محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:
"اس حلف نامے کے ذریعے میں اپنی اہلیہ اور اپنی بیٹی سے بھی مخاطب ہونا چاہتا ہوں۔ گزشتہ آٹھ برسوں سے میں آپ کی آوازیں سننے یا آپ سے رابطہ کرنے کے قابل نہیں رہا، کیونکہ مجھے آپ سے فون پر بات کرنے یا ویڈیو کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ میرا وقت محدود اور غیر یقینی رہا ہے۔
آپ مجھ سے بیس (20) سال چھوٹی ہیں، اور میں نہیں چاہتا کہ آپ اپنی باقی زندگی میرے حالات کا بوجھ اٹھاتے ہوئے یا بیوہ کی طرح زندگی گزارتے ہوئے گزاریں۔ اس لیے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ہمت کا مظاہرہ کریں اور اپنی زندگی کا ایک نیا باب عزت اور امید کے ساتھ شروع کریں۔ میں ہمیشہ آپ سے محبت، احترام کرتا رہوں گا اور اس دنیا اور اگلی دنیا، دونوں میں آپ کو یاد رکھوں گا۔ جہاں بھی میری قسمت مجھے لے جائے، میری دعائیں، محبت اور برکتیں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گی۔
اس سے پہلے کہ مجھے پھانسی دی جائے، میں نے آپ کو اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں آپ سے جدائی کا اعلان کیسے کروں۔ نیلسن منڈیلا نے میرے حقیقی جذبات کو الفاظ دینے میں میری مدد کی:
محبت کا تذکرہ
یاسین ملک نے اس کے بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ گزاری گئی زندگی اور ان کے درمیان موجود محبت کا ذکر کرتے ہوئے بیان حلفی میں لکھا:
"میں ذاتی طور پر اس زندگی پر کبھی پچھتاوا نہیں کروں گا جو میری اور میری شریکِ حیات نمزمو کی تھی اور جسے ہم نے مل کر گزارنے کی کوشش کی۔ تاہم، ہمارے اختیار سے باہر حالات نے فیصلہ کیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ میں اپنی اہلیہ سے کسی شکوے یا رنجش کے بغیر جدا ہو رہا ہوں۔ میں اسے اس تمام محبت اور شفقت کے ساتھ گلے لگاتا ہوں جو میں نے جیل کے اندر اور باہر، جب سے پہلی مرتبہ اس سے ملا، اپنے دل میں سنبھال کر رکھی ہے۔ خواتین و حضرات، مجھے امید ہے کہ آپ اس تکلیف کو سمجھیں گے جس سے وہ گزری ہیں۔”
یسین ملک کو افسوس
انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ وہ اپنی اہلیہ کے شوہر اور اپنے بچوں کے والد کی حیثیت سے وہ کردار ادا نہیں کر سکے جو وہ ادا کرنا چاہتے تھے:
"شاید میں درد کی وجہ سے بعض چیزوں کو سمجھنے سے قاصر رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی اہلیہ کے شوہر اور اپنے بچوں کے والد کی حیثیت سے اپنا کردار ادا نہ کر سکا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ جب میں جیل میں تھا تو میری اہلیہ کی زندگی میرے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل تھی۔ میری واپسی بھی اس کے لیے میرے مقابلے میں زیادہ مشکل ثابت ہوئی۔ اس نے ایک ایسے شخص سے شادی کی تھی جو اپنے والد کو کھو چکا تھا؛ وہ شخص ایک افسانہ بن گیا تھا، اور پھر اس افسانے کو دوبارہ صرف ایک عام انسان بننا تھا۔”
بیٹی کی شادی کا حوالہ
یاسین ملک نے اپنی بیٹی کی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی نجی زندگی کے بارے میں بھی افسوس کا اظہار کیا:
"جیسا کہ میں نے بعد میں اپنی بیٹی زندگی کی شادی کے حوالے سے بھی کہا، ایسا لگتا ہے کہ آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی ذاتی زندگیاں غیر مستحکم ہونا ہی ان کی قسمت ہے۔ جب آپ کی زندگی خود جدوجہد بن جائے، جیسا کہ میری زندگی تھی، تو خاندان کے لیے بہت کم جگہ باقی رہ جاتی ہے۔ یہی ہمیشہ میرا سب سے بڑا پچھتاوا اور میرے کیے گئے فیصلے کا سب سے تکلیف دہ پہلو رہا ہے۔”
انہوں نے اپنے بچوں سے متعلق جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مزید لکھا:
"ہم نے اپنے بچوں کو ہماری رہنمائی کے بغیر بڑا ہوتے دیکھا… جب ہم جیل سے باہر آئے تو میرے بچوں نے کہا، ‘ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے والد ایک دن واپس آئیں گے…'”
اور مزید بیان حلفی میں لکھا:
"ہماری بدقسمتی سے، ہمارے والد گھر آئے اور ہمیں اکیلا چھوڑ دیا کیونکہ اب وہ قوم کے والد بن رہے تھے۔”
قتل کا الزام
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ محمد یاسین ملک نے اہلیہ مشعال ملک سے ازدواجی رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ جموں کی ٹاڈا/پوٹا عدالت میں جمع کرائے گئے ایک انتہائی ذاتی نوعیت کے 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی میں کیا، جہاں ان کے خلاف قتل کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔


