پاکستان کے پھولوں اور خوشیوں کے شہر پشاور کو امریکہ کے شہر نیویارک کا جڑواں شہروں کا درجہ دینے کا فیصلہ ہوا ہے اس بارئے دونوں حکام کے درمیان مزید بات چیت جاری ہے۔
Peshawar is set to become a sister city of New York as talks move forward between officials from both sides. The New York City Mayor’s Office has shared a draft agreement with Khyber Pakhtunkhwa authorities, marking an important step toward the partnership.
KP Governor Faisal… pic.twitter.com/ul6OCo456T
— Startup Pakistan (@PakStartup) February 6, 2026
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی کے دفتر کے اشتراک سے پشاور اور نیویارک کو جڑواں شہر (Sister Cities) قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
پشاور اور نیو یارک کو جڑواں شہر قرار دینے کا فیصلہ خیبر پختونخوا کی کابینہ کے 23 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا۔
خیبر پختونخوا کابینہ کے اجلاس میں پشاور اور نیویارک سٹی کو جڑواں شہر قرار دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت کے مسودے کی منظوری بھی دی تھی.
اس کا مقصد دونوں شہروں کے درمیان ثقافتی، تجارتی، معاشی، تعلیمی اور گورننس کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے منگل کی شب ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ اشتراک خیبر پختونخوا کے لیے باعث فخر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ شراکت داری تعلیم، نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی، ٹیکنالوجی، تجارت اور ثقافتی تبادلوں میں نئے مواقع پیدا کرے گی۔‘
نیویارک سٹی کے میئر آفس نے خیبر پختونخوا کابینہ کی منظوری کے بعد دونوں شہروں کو جڑواں شہر قرار دینے کا مسودہ منظور ی کے لیے گورنر ہاؤس کو ارسال کیا تھا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے بیان میں کہا: ’ہمارا وژن ہے کہ پشاور کو امن، مواقع اور عالمی روابط کے شہر کے طور پر بحال کیا جائے۔ یہ اشتراک پاکستان اور امریکہ کے عوام کے درمیان روابط کو مضبوط بناتا ہے۔
پشاور کے حوالے سے ابھی تک نیویارک اسمبلی میں قرارداد پاس پیش ہونے کی بات نہیں کی گئی ہے لیکن خیبر پختونخوا کابینہ نے معاہدے پر دستخط کرنے کی منظوری ضرور دی ہے۔
جڑواں شہروں کا نظریہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ڈوئٹ ایسنحاور نے پیش کیا تھا تاکہ امریکہ کے دیگر ریاستوں کے ساتھ معاشی اور دیگر تعلقات بہتر بنا سکیں۔
جڑواں شہر قرار دینے کے لیے کسی دو شہروں کے منتخب میئر یا نمائندہ ہونا ضروری ہوتا ہے، تاکہ دونوں کے مابین معاہدے پر دستخط ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھئیں

