پاکستان کرکٹ بورڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم سری لنکا بھجوانے سے متعلق حتمی فیصلہ جمعے یا پیر کو کر ئے گا تا ہم یہ بات اہم دکھائی دے رہی ہے کہ پاکستان کے بائیکاٹ کی صورت میں آئی سی سی اور پاکستان کو کتنا بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان ٹورنامنٹ کے مکمل بائیکاٹ سمیت صرف انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے یا بازوں پر بطور احتجاج سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلنے پر غور کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انڈیا میں کھیلنے سے انکار پر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا تھا جس پر پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہو نے کا فیصلہ کیا۔چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے فیصلے کو بنگلہ دیش سے نا انصافی‘ قرار دیتے ہوئے اسے دہرا معیار قرار دیا تھا۔
’اگر پاکستان آج بائیکاٹ کرتا ہے تو وہ مستقبل کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ اور ٹیسٹ چیمپئن شپ سے بھی باہر ہو سکتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھئیے
پاکستان کی ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ جمعے یا آئندہ پیر کو ہوگا ، محسن نقوی – urdureport.com
بھارت بنگلہ دیش اختلافات بڑھ گئے سفیروں کی فیملیز واپس – urdureport.com
گذشتہ 20 برسوں کے دوران انڈیا اور پاکستان کے مابین میچز سے ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کی آمدنی ہوئی پاکستان کے نہ کھیلنے سے آئی سی سی کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ ان کے مطابق ’انڈیا اور پاکستان کے میچ کے ٹکٹ فوری طور پر فروخت ہو جاتے ہیں۔ ٹی وی پر ملنے والے مہنگے اشتہارات اور سپانسر شپ کی مد میں بھی پیسہ کمایا جاتا ہے جس کا بھاری نقصان ہو گا۔
2023 میں ریونیو کی تقسیم کے فیصلے کے وقت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی کل آمدنی 60 کروڑ ڈالر تھی۔ڈربن میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سنہ 2024 سے 2027 تک اس آمدنی کا 38٫5 فیصد انڈین کرکٹ بورڈ کو دیا جائے گا۔انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو ریونیو کا سات فیصد جبکہ آسٹریلیا کو چھ فیصد ملے گا۔پاکستان، چوتھے نمبر پر ہے، جسے اس عرصے کے دوران آئی سی سی کی جانب سے سالانہ تین کروڑ 45 لاکھ ڈالرز ملیں گے۔


