ماہرینِ نے انکشاف کیا ہے کہ ہاتھیوں کے بڑے کان صرف ان کی شناخت نہیں بلکہ ان کی بقا کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ماہرین جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ ہاتھی چونکہ دنیا کے سب سے بڑے زمینی جانور ہیں اور گرم علاقوں میں رہتے ہیں، اس لیے ان کے جسم میں زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے، جسے خارج کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہاتھی اپنے کانوں کو جسم کا درجہ حرارت قابو میں رکھنے اور ایک دوسرے سے رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ افریقی ہاتھیوں کے کان کسی بھی زمینی جانور کے مقابلے میں سب سے بڑے ہوتے ہیں، جو ان کے جسمانی رقبے کا تقریباً 20 فیصد بنتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ہاتھیوں کے کانوں میں ہزاروں باریک خون کی نالیاں موجود ہوتی ہیں۔ جب خون ان کانوں تک پہنچتا ہے تو بیرونی ہوا کے ذریعے ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور دوبارہ جسم میں گردش کرکے درجہ حرارت کو معمول پر لاتا ہے۔ کان ہلانے کا عمل اس ٹھنڈک کو مزید مؤثر بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
دنیا کے 10امیر ترین خاندان کون سے؟سعودی شاہی خاندان کی دولت اربوں ڈالر بڑھ گئی – urdureport.com
ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ ہاتھی اپنے کانوں کے ذریعے جذبات اور خطرات کے اشارے دیتے ہیں۔ خطرے کی صورت میں وہ کان پھیلا کر خود کو بڑا ظاہر کرتے ہیں جبکہ خوشی یا جوش کے موقع پر تیزی سے کان ہلاتے ہیں۔
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی ہاتھیوں کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین نے جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی مسکن کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
