اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: دنیائے کرکٹ کے 21 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے آزادانہ طبی معائنہ یقینی بنایا جائے، انہیں ہر ہفتے اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور طبی معائنے کے بعد تجویز کردہ علاج میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔
یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی صحت، جیل میں ان کے حالات اور طبی سہولیات تک رسائی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خط میں سابق کپتانوں نے واضح کیا کہ وہ سیاست دان نہیں بلکہ عمران خان کے سابق ساتھی کرکٹرز ہیں اور کرکٹ کے ذریعے ان کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو سرحدوں اور نظریات سے بالاتر ہو کر لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے، اسی لیے وہ عمران خان کی صحت اور فلاح کے حوالے سے یہ اپیل کر رہے ہیں۔ تاہم اس خط میں کوئی سابق پاکستانی کپتان شامل نہیں۔
Twenty-one former international cricket captains urged Pakistan’s prime minister to ensure that jailed former premier Imran Khan receives an independent medical assessment, regular weekly visits from his family, and immediate treatment for any health issues identified. pic.twitter.com/v2hQYsYRxi
— Tariq Iqbal Chaudhry (@ChoudhryTariq) August 24, 2026
21 سابق کپتانوں میں کون کون شامل ہیں؟
خط پر دستخط کرنے والوں میں بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر، کپل دیو اور دلیپ وینگسارکر شامل ہیں۔
آسٹریلیا کے سابق کپتان ایلن بارڈر، ایان چیپل، گریگ چیپل اور اسٹیو وا بھی خط کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن، ناصر حسین، اینڈریو اسٹراس اور الیسٹر کک، ویسٹ انڈیز کے سر کلائیو لائیڈ، سری لنکا کے ارجونا رانا ٹونگا اور نیوزی لینڈ کے جان رائٹ سمیت دیگر سابق کپتانوں نے بھی خط پر دستخط کیے ہیں۔
عمران خان کے لیے تین اہم مطالبات
سابق کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام خط میں تین بنیادی مطالبات پیش کیے ہیں۔
پہلا مطالبہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کو عمران خان کا مکمل اور آزادانہ طبی معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
خط میں خاص طور پر عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے سے متعلق اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کی آنکھ سمیت مجموعی صحت کا مکمل جائزہ لیا جائے۔
دوسرا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو ہر ہفتے اپنے اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی انتظامی تاخیر یا رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔
تیسرے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ طبی معائنے کے بعد جو علاج تجویز کیا جائے، اسے بغیر کسی تاخیر کے شروع کیا جائے۔
سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ
سابق کپتانوں نے خط میں سپریم کورٹ کے اس حکم کا بھی حوالہ دیا ہے جس کے تحت عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
تاہم عمران خان کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
حکومت نے عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل نہ کرنے کی وجہ سکیورٹی خدشات کو قرار دیا تھا۔
سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکم کے تحت آزادانہ طبی معائنہ مکمل ہونا چاہیے اور عمران خان کو ان کی طبی ضروریات کے مطابق علاج فراہم کیا جانا چاہیے۔
عمران خان کی دائیں آنکھ کے بارے میں تشویش
خط میں سابق کپتانوں نے عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کو خاص طور پر اہم قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق کے لیے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ کو مکمل طبی معائنہ کرنے دیا جائے تاکہ عمران خان کی اصل طبی صورتحال سامنے آ سکے۔
اہلخانہ سے ہفتہ وار ملاقات کا مطالبہ
سابق کپتانوں نے عمران خان کے اہلخانہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ملاقاتوں کے لیے عدالتی ہدایات پر عمل کیا جائے اور اہلخانہ کو عمران خان سے ملنے کے لیے غیر ضروری انتظامی رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
فروری میں بھی خط لکھا گیا تھا
یہ پہلا موقع نہیں کہ سابق بین الاقوامی کپتانوں نے عمران خان کی صحت اور علاج کے حوالے سے حکومت پاکستان کو خط لکھا ہو۔
رواں سال فروری میں 14 سابق کپتانوں نے بھی عمران خان کو مناسب طبی سہولیات، اپنی پسند کے ڈاکٹروں سے علاج اور اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
موجودہ خط میں مزید سات سابق کپتان شامل ہوئے ہیں، جس کے بعد دستخط کرنے والے سابق کپتانوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے۔
پاکستانی سابق کپتانوں کی عدم شمولیت
21 سابق کپتانوں کے موجودہ خط میں بھی کسی پاکستانی سابق کپتان کا نام شامل نہیں ہے۔
فروری میں بھی جب 14 سابق کپتانوں نے خط لکھا تھا تو پاکستانی سابق کپتانوں کی عدم شمولیت پر سوشل میڈیا پر بحث ہوئی تھی۔
بعد ازاں سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم اور رمیز راجہ کی جانب سے عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے مطالبے پر بیانات سامنے آئے تھے۔
موجودہ خط میں بھی کسی پاکستانی سابق کپتان کے دستخط نہ ہونے پر سوشل میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
سابق کپتانوں کا مؤقف
خط میں سابق کرکٹرز نے کہا کہ عمران خان کے معاملے سے متعلق قانونی اور سیاسی معاملات اپنی جگہ، لیکن عدالت کے حکم کے تحت ان کے طبی معائنے اور مناسب علاج کا مطالبہ متنازع نہیں ہونا چاہیے۔
21 سابق کپتانوں کی اس مشترکہ اپیل نے عمران خان کی صحت، جیل میں ان کے علاج اور اہلخانہ سے ملاقاتوں کے معاملے کو ایک بار پھر عالمی کرکٹ کے بڑے ناموں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔


