ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر جاری حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس رائیل ی کارروائیاں نہ صرف ممکنہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور اگر جارحیت جاری رہی تو مذاکرات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ لبنان میں حملے ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے دھوکہ دہی کی خطرناک علامت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ ایران اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنگ بندی تجاویز میں لبنان اور مزاحمتی محور کو شامل کیا گیا تھا، تاہم ابتدائی مراحل میں ہی اہم نکات کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سخت ردعمل دیا جائے گا اور اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
قالیباف نے الزام عائد کیا کہ ایران کی فضائی حدود میں ڈرون دراندازی، یورینیئم افزودگی کے حق سے انکار اور لبنان میں حملے، ان تین بڑے نکات کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مذاکرات یا جنگ بندی کی بات غیر معقول دکھائی دیتی ہے۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اختلافات موجود ہیں، تاہم کئی نکات پر اتفاق بھی پایا جاتا ہے، جو مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
یہ بھی پڑھئِں


