اسلام آباد میں امریکا اور ایران USA Iran bilateral talks کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جبکہ اسلام آباد مزاکرات میں ایرانی صدر کی شمولیت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
مطابق تمام سرکاری و نجی دفاتر بند رہیں گے، تاہم ضروری خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی، پولیس اور ہسپتالوں سمیت دیگر اہم اداروں کو تعطیلات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے۔
انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں کو فوری عملدرآمد کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی وقتی طور پر ٹل گئی ہے، یہ پہلا قدم ہے مگر ہماری منزل پائیدار اور دیرپا امن، ترقی و خوشحالی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پرسوں (جمعے کے روز) ان کی دعوت پر امریکی و ایرانی وفد پاکستان آ رہے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امن قائم ہو گا
دوسری جانب اہم پیش رفت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان Masoud Pezeshkian نے 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران ایرانی صدر نے مذاکرات میں شرکت کے عزم کا اظہار کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ 15 نکات میں سے کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ پابندیوں اور ٹیرف USA tariff میں نرمی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت مثبت سمت میں بڑھ رہی ہے۔ادھر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے پاکستان کی جانب سے مستقل امن معاہدے کے لیے کی جانے والی ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ تیل اور گیس oil prices کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ اسٹاک مارکیٹس Pakistan stock market میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسی دوران آبنائے ہرمز strait of Hormuz سے بحری آمد و رفت کی بحالی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جو عالمی تجارت کے لیے خوش آئند اشارہ ہے۔یورپی رہنماؤں نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔
یہ بھی پڑھئیے


