امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورتحال کسی بھی وجہ سے غیر متوقع رخ اختیار کرتی ہے تو ایران پر پہلے سے زیادہ بڑے اور طاقتور حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
لائیو بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے تک خطے میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی بحری جہاز، جنگی طیارے اور فوجی اہلکار ایران کے گرد تعینات رہیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا فوری جواب دیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، اور ایران کی جانب سے کسی بھی جارحانہ قدم کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب لبنان نے اس رائی ل کے حملوں کو فوری ختم کروانے پر پاکستان سے تعاون مانگ لیا۔
اس حوالے سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی جاری جارحیت کی شدید مذمت کی اور لبنان میں ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئِے


