آرٹیمس 2 مشن سب سے خطرناک مرحلے میں اب زمین کی طرف واپسی کے سفر پر گامزن ہے، جس میں چار خلا باز چاند کے اُس حصے کے گرد چکر لگا چکے ہیں جو زمین سے نظر نہیں آتا۔ یہ ایک غیر معمولی مشن ہے جس میں انسان تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ خلا میں دوری تک خلا میں گئے ہیں۔
مشن آرٹیمس ٹو تقریباً 10 دن کا ہے۔ خلاباز چاند کے گرد فلائی بائی (قریب سے گزر) مکمل کر چکے ہیں (6 اپریل کو)۔ اب وہ زمین کی طرف واپسی پر ہیں۔
ابھی (9 اپریل 2026) وہ تقریباً 2 سے 3 لاکھ کلومیٹر دور زمین سے ہیں اور واپسی کے آخری مراحل میں ہیں۔

مشن کا اسپلش ڈاؤن (پیسیفک اوشن میں پانی پر اترنا) 10 اپریل 2026 (جمعہ) کو متوقع ہے، تقریباً شام 8:07 بجے EDT (پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً 5 بجے)۔ ریکوری ٹیم تیار ہے۔
اس مشن میں ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ یہ 1972 کے Apollo 17 کے بعد پہلا موقع ہے جب انسان زمین کے مدار سے باہر گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی یہ پہلا موقع بھی ہے کہ ایک سیاہ فام خلا باز، ایک خاتون اور ایک غیر امریکی خلا باز اتنی دور خلا میں گئے۔
یہ 10 روزہ مشن یکم اپریل کو لانچ ہوا اور NASA کے آرٹیمس پروگرام کا پہلا انسان بردار مشن ہے، جس کا مقصد مستقبل میں چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنا ہے۔
مشن کی اہم جھلکیاں
- خلا باز “فری ریٹرن ٹریجیکٹری” پر سفر کر رہے ہیں، یعنی اگر انجن بھی بند ہو جائے تو بھی خلائی جہاز خود بخود چاند کے گرد گھوم کر زمین کی طرف واپس آ جائے گا۔
- Orion خلائی جہاز میں خلا باز رہ رہے ہیں، کھا رہے ہیں، سو رہے ہیں اور سائنسی تجربات کر رہے ہیں، جبکہ کئی خطرات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔
اہم مراحل

1. ٹرانس لیونر انجیکشن (اہم مرحلہ)
یہ وہ مرحلہ تھا جس میں خلائی جہاز کی رفتار بڑھا کر اسے زمین کے مدار سے نکال کر چاند کی طرف بھیجا گیا۔
2. کمیونیکیشن ٹیسٹ
ڈیپ اسپیس نیٹ ورک کے ذریعے زمین سے رابطہ قائم رکھا جا رہا ہے، تاہم چاند کے قریب ایک وقت ایسا بھی آیا جب تقریباً 40 منٹ تک خلا بازوں کا زمین سے مکمل رابطہ منقطع ہو گیا ۔
3. چاند کے اثرِ کشش میں داخلہ
پانچویں دن خلائی جہاز اس مقام میں داخل ہوا جہاں چاند کی کششِ ثقل زمین سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
4. ریکارڈ ساز فلائی بائی
مشن نے 1970 کے Apollo 13 کا ریکارڈ توڑ دیا اور تقریباً 252,756 میل دور تک پہنچ گیا — جو انسان کی اب تک کی سب سے دوری ہے۔
خلا بازوں کا تجربہ
کمانڈر وائزمین نے بتایا کہ ایک لمحہ ایسا آیا جب پورا زمین کا منظر ایک ساتھ نظر آ رہا تھا، جس میں افریقہ، یورپ اور شمالی روشنیاں بھی شامل تھیں۔ یہ منظر اتنا حیران کن تھا کہ تمام خلا باز کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔
واپسی کا مشکل مرحلہ
زمین پر واپسی (Reentry) سب سے خطرناک مرحلہ ہوگا، کیونکہ خلائی جہاز آواز کی رفتار سے 30 گنا زیادہ تیزی سے زمین کی فضا میں داخل ہوگا، جس سے درجہ حرارت 5000 فارن ہائیٹ (2760 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ سکتا ہے۔
Orion کے ہیٹ شیلڈ میں پہلے سے ایک مسئلہ موجود ہے، جس کی وجہ سے اس بار واپسی کا طریقہ تبدیل کیا گیا ہے تاکہ خلائی جہاز محفوظ طریقے سے زمین پر اتر سکے۔
آرٹیمس II مشن نہ صرف سائنسی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ مستقبل میں چاند پر انسانوں کی مستقل موجودگی کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے، اور یہ خلا میں انسانی تاریخ کا ایک نیا باب ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


