انسانی خلائی تاریخ میں ایک نئی کامیابی آرٹیمس 2 Artemis II کے خلا باز چاند کے گرد تاریخی سفر مکمل کرنے کے بعد بحفاظت زمین پر واپس پہنچ گئے ہیں۔

NASA کے مطابق یہ مشن دس روز پر محیط تھا، جس کے اختتام پر خلا بازوں کو لے جانے والا اورائن کیپسول بحرالکاہل میں کامیابی سے لینڈ کر گیا۔ لینڈنگ کے بعد خلا بازوں کو امریکی بحریہ کے جہاز USS John P. Murtha پر منتقل کیا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا، اور تمام خلا بازوں کی حالت تسلی بخش بتائی گئی۔
اس مشن کی قیادت کمانڈر Reid Wiseman نے کی، جبکہ عملے میں Victor Glover اور Christina Koch سمیت دیگر خلا باز شامل تھے۔ واپسی کے بعد Reid Wiseman نے تصدیق کی کہ پوری ٹیم محفوظ اور صحت مند ہے۔
آرٹیمس ٹو کا تاریخی سفر

یہ مشن اس لحاظ سے بھی تاریخی رہا کہ اس دوران انسان نے زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک سفر کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ خلا باز چاند کے عقبی حصے سے گزرتے ہوئے زمین سے تقریباً 406,771 کلومیٹر دور پہنچے، جو اس سے قبل Apollo 13 کے قائم کردہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
مشن کے دوران خلا بازوں نے ایسے مناظر دیکھے جو اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں دیکھے تھے۔ خلا باز Victor Glover کے مطابق اس تجربے کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، جبکہ Christina Koch نے چاند کے عقب سے دوبارہ زمین سے رابطہ بحال ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔
اہم بات یہ بھی رہی کہ جب خلائی جہاز چاند کے پچھلے حصے سے گزرا تو تقریباً 40 منٹ کے لیے زمین سے رابطہ منقطع ہو گیا، جو کہ ایک فطری سائنسی عمل ہے کیونکہ چاند ریڈیو سگنلز کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔ تاہم رابطہ بحال ہوتے ہی مشن معمول کے مطابق جاری رہا۔
European Space Agency سمیت دیگر عالمی ادارے مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے لیے جدید مواصلاتی نظام بنانے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ ایسے رابطے کے تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق Artemis II نہ صرف ایک سائنسی کامیابی ہے بلکہ یہ چاند پر مستقل انسانی قیام کے خواب کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے، جو آنے والے برسوں میں خلائی تحقیق کا رخ بدل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


