ایران کے سپیکر محمد باگر گلیباف Mohammad Bagher Ghalibaf نے پاکستان پہنچنے کے بعد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طیارے کے اندر کی ایک تصویر شیئر کی، جو تیزی سے وائرل ہو گئی۔ تصویر میں طیارے کی نشستوں پر بچوں کی تصاویر، سکول بیگز اور سفید پھول رکھے گئے تھے۔ انہوں نے اس تصویر کے ساتھ لکھا: “اس پرواز میں میرے ساتھی”۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تصاویر اُن بچوں کی یاد میں رکھی گئی تھیں جو Minab میں ایک سکول پر ہونے والے میزائل حملے میں جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے میں 168 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ اسی مناسبت سے ایرانی طیارے کو ’میناب 168‘ کا نام دیا گیا۔

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات سے قبل اہم سفارتی اور عوامی دلچسپی کے مناظر سامنے آئے، جہاں نہ صرف اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد کو قریب سے دیکھا گیا بلکہ ان کے طیاروں کی براہ راست ٹریکنگ بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی رہی۔
ایرانی وفد کی آمد سے شکوک و شبہات کا خاتمہ
ایرانی وفد، جس کی قیادت Mohammad Bagher Ghalibaf کر رہے ہیں، ہفتہ کی علی الصبح نور خان ایئر بیس پہنچا۔ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ Abbas Araghchi بھی موجود تھے۔ ایران کی آمد سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ آیا تہران مذاکرات میں شریک ہوگا یا نہیں، تاہم وفد کی آمد نے ان شکوک و شبہات کو ختم کر دیا۔

دوسری جانب امریکی وفد، جس کی قیادت نائب صدر J. D. Vance کر رہے ہیں، کی آمد بھی غیر معمولی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ ان کے ہمراہ Steve Witkoff اور Jared Kushner بھی شامل ہیں۔
وفود کی آن لائن فلائیٹ ٹریکنگ
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے وفود کے طیاروں کو ہزاروں افراد نے آن لائن فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارمز، خصوصاً Flightradar24 کے ذریعے براہ راست ٹریک کیا۔ ایرانی طیارے ’ایران فور‘ اور ’ایران فائیو‘ افغانستان کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے پاکستان پہنچے، جبکہ امریکی طیارے، جن میں ’ایئر فورس ٹو‘ بھی شامل تھا، یورپ اور وسطی ایشیا کے مختلف ممالک سے گزر کر اسلام آباد پہنچے۔
فلائٹ ٹریکنگ کے دوران بعض امریکی طیارے، جیسے ’SAM 091‘ اور ’SAM 095‘، ہزاروں صارفین کی توجہ کا مرکز رہے۔ ایک وقت میں صرف ایک طیارے کو 30 ہزار سے زائد افراد ٹریک کر رہے تھے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان مذاکرات میں عالمی دلچسپی کس قدر بڑھ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف سفارتی اہمیت رکھتی ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی نگرانی اور دلچسپی کی ایک نئی مثال بھی پیش کرتی ہے، جہاں عالمی سطح کے حساس واقعات کو لوگ لمحہ بہ لمحہ دیکھ اور فالو کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


