آسٹریلیا نے اپنی 125 سالہ عسکری تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے پہلی بار ایک خاتون کو آرمی چیف مقرر کر دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سوزن کوائل Lieutenant General Susan Coyle جولائی میں باضابطہ طور پر جولائی میں فوج کی کمان سنبھالیں گی، اور وہ موجودہ آرمی چیف سائمن اسٹیورٹ کی جگہ لیں گی۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس فیصلے کو ملکی تاریخ کا ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار ایک خاتون آسٹریلوی فوج کی قیادت کرے گی، جو نہ صرف فوج بلکہ پورے ملک کے لیے فخر کی بات ہے۔ ان کے مطابق یہ قدم صنفی برابری کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔
In a historic move, Lieutenant General Susan Coyle has become Australia's first woman to be appointed as the chief of army. Coyle, 55, enlisted in the military in 1987, has held a number of senior command roles. She will be the first woman to lead any service branch of the… pic.twitter.com/LvC0avTShe
— Reuters (@Reuters) April 13, 2026
دفاعی وزیر رچرڈ مارلز نے بھی اس تقرری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ آنے والی نسلوں، خاص طور پر خواتین کے لیے ایک طاقتور پیغام ہے۔ انہوں نے سوزن کوائل کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ "آپ وہ نہیں بن سکتے جو آپ دیکھ نہیں سکتے”، جو اس تقرری کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
سوزن کوائل کا فوجی تجربہ
سوزن کوائل تقریباً چار دہائیوں پر محیط فوجی تجربہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے 1987 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان اور مشرق وسطیٰ سمیت اہم محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ وہ سائبر سکیورٹی اور خلائی کمانڈ جیسے جدید دفاعی شعبوں میں بھی قیادت کر چکی ہیں، جو انہیں اس عہدے کے لیے ایک مضبوط امیدوار بناتا ہے۔
اپنے بیان میں سوزن کوائل نے اس اعتماد پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا متنوع تجربہ انہیں اس اہم ذمہ داری کے لیے تیار کرتا ہے اور وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ملک کی خدمت کریں گی۔
یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلیا میں دفاعی افواج میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس وقت خواتین فوج کا تقریباً 21 فیصد حصہ ہیں جبکہ اعلیٰ قیادت میں ان کی نمائندگی 18.5 فیصد ہے، جسے 2030 تک 25 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ پیشرفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں فوج کے اندر خواتین کے خلاف ہراسانی اور امتیازی سلوک کے الزامات سامنے آئے تھے، جن پر حکومت کو تنقید کا سامنا رہا۔
دوسری جانب حکومت نے دفاعی قیادت میں مزید تبدیلیاں بھی کی ہیں، جن کے تحت وائس ایڈمرل مارک ہیمنڈ کو آسٹریلین ڈیفنس فورس کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو ڈیوڈ جانسٹن کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے
یہ بھی پڑھئِے


