بیجنگ Beijingچین میں جاری دنیا کے سب سے بڑے آٹو شو میں پیش کی جانے والی جدید چینی الیکٹرک گاڑیوں نے عالمی آٹو انڈسٹری کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، جہاں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے توڑ کے لیے جدید ٹیکنالوجی، کم قیمت اور منفرد سہولیات نے مغربی کار ساز کمپنیوں کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
نمائش میں پیش کی گئی گاڑیوں میں مکینیکل فٹ مساج، گھومنے والی نشستیں، ان کار کراوکی سسٹم، پروفیشنل معیار کے اسپیکرز اور دیواروں پر فلمیں پروجیکٹ کرنے والی ہیڈلائٹس جیسے جدید فیچرز شامل ہیں۔ حیران کن طور پر یہ سہولیات صرف مہنگی گاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ نسبتاً کم قیمت ماڈلز میں بھی دستیاب ہیں۔
چین کی الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں
چینی کار ساز کمپنیاں بڑی تعداد میں نسبتاً کم قیمت پر الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں تیار کر رہی ہیں، ایسے وقت میں جب ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی عنصر ان گاڑیوں کو عالمی صارفین کے لیے مزید پرکشش بنا رہا ہے۔
ادھر United States اور چین کے درمیان بڑھتی تجارتی کشیدگی کے باعث امریکی حکومت نے چینی گاڑیوں کی درآمد پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکی صدر Donald Trump کی متوقع چین آمد کے تناظر میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا چینی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے امریکی مارکیٹ کے دروازے کھل سکیں گے یا نہیں۔
بی وائے ڈی کمپنی کا موقف
دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی BYD کی ایگزیکٹو اسٹیلا لی کا کہنا ہے کہ بڑھتی ایندھن قیمتیں صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک بار الیکٹرک گاڑی استعمال کرنے والا صارف دوبارہ پٹرول گاڑی کی طرف واپس نہیں جاتا۔
اعداد و شمار کے مطابق چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 78 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ یورپی یونین میں BYD کی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں تقریباً 170 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی مضبوط سپلائی چین، جدید خودکار فیکٹریاں اور حکومتی سرپرستی اسے عالمی آٹو انڈسٹری میں نمایاں برتری دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک اسے محض تجارتی مقابلہ نہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کی جنگ تصور کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جس طرح گزشتہ صدی میں امریکی کمپنیوں نے آٹو انڈسٹری کی قیادت کی، اسی طرح اکیسویں صدی میں چین کی الیکٹرک گاڑیاں عالمی ٹیکنالوجی برتری کی نئی علامت بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔
"امریکی مارکیٹ کے بغیر بھی BYD اپنی برتری برقرار رکھے گی۔”
امریکہ نے قومی سلامتی کے خدشات اور مقامی آٹو انڈسٹری کے تحفظ کے نام پر چینی کار ساز کمپنیوں کے لیے اپنی مارکیٹ تقریباً بند کر رکھی ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ چینی کمپنیاں حکومتی معاونت اور سبسڈی کے باعث غیر معمولی مسابقتی برتری حاصل کر چکی ہیں۔
یہ معاملہ آئندہ ماہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے جب چینی صدر Xi Jinping بیجنگ میں امریکی صدر Donald Trump کی میزبانی کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس ملاقات میں تجارتی تعلقات اور چینی الیکٹرک گاڑیوں پر امریکی پابندیاں زیر بحث آ سکتی ہیں۔
اسٹیلا لی نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات سے پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق،
"مذاکرات کے آغاز سے کاروباری مواقع پیدا ہوتے ہیں، اور پھر مارکیٹ کو کھلنا چاہیے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔”
مذید پڑھئِں


