مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کا اشارہ دیا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے نرم رویہ اپنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری دکھائی دے رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے بھیجی گئی نئی تجاویز انہیں موصول ہو چکی ہیں اور وہ جلد ان کا جائزہ لیں گے، تاہم انہوں نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ تہران کی تجاویز امریکا کے لیے قابل قبول ہوں گی۔
دوستانہ بحری ناکہ بندی
انہوں نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کو ’’دوستانہ ناکہ بندی‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام فضائی حملوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ابھی تک اپنے اقدامات کی مکمل قیمت ادا نہیں کی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے ساتھ مذاکرات کی مکمل صلاحیت موجود ہے، لیکن کانگریس میں بعض ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ارکان جنگی اختیارات کے معاملے پر اس دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی شرائط میں نرمی
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی سابقہ سخت شرائط میں نرمی کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے حملے روکنے کی ضمانت کے بدلے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ بحری محاصرہ ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی بات چیت کی پیشکش کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر امریکی پابندیوں میں نرمی کی گئی تو جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو بعد کے مرحلے میں زیر غور لایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں مزاکرات
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کے لیے آمادہ ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی دور میں دونوں فریق کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ رابطے مسلسل جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان فون پر بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے طویل سفارتی دوروں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے نتیجہ ملاقاتوں سے بہتر ہے کہ براہِ راست اور نتیجہ خیز رابطے کیے جائیں
یہ بھی پڑھئِں


