ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم نے مبینہ طور پر دنیا کے پہلے ایسے دارالحکومت کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں عوامی مقامات پر گوشت اور فوسل فیول سے متعلق اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد شہر بھر کے بل بورڈز، ٹرام اسٹاپس اور میٹرو اسٹیشنز سے برگرز، پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں اور سستی فضائی سفر کے اشتہارات ہٹا دیے گئے ہیں۔
یکم مئی سے نافذ ہونے والی اس پالیسی کے تحت اشتہاری جگہوں پر اب عجائب گھروں، ثقافتی تقریبات اور موسیقی کے پروگراموں کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شہر کے ماحولیاتی اہداف کا حصہ ہے، جس کے تحت 2050 تک کاربن نیوٹرل بننے اور گوشت کے استعمال میں نمایاں کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پابندی پر مختلف آرا
گرین لیفٹ پارٹی کی ایک رہنما نے کہا کہ ماحولیاتی بحران انتہائی سنگین ہے اور اگر شہر ماحولیاتی پالیسیوں میں قیادت کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے ایسے اشتہارات کی اجازت نہیں دینی چاہیے جو ان مقاصد کے خلاف ہوں۔
تاہم اس فیصلے پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ڈچ میٹ ایسوسی ایشن نے پابندی کو صارفین کے انتخاب پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوشت اہم غذائی اجزا فراہم کرتا ہے اور اس کی تشہیر پر قدغن مناسب نہیں۔
ادھر سفری صنعت سے وابستہ تنظیموں نے فضائی کمپنیوں کے اشتہارات پر پابندی کو تجارتی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔ ڈچ ایسوسی ایشن آف ٹریول ایجنٹس اینڈ ٹور آپریٹرز کے مطابق یہ اقدام کاروباری سرگرمیوں کے لیے غیر متناسب نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ماحولیاتی کارکن اس اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ایڈووکیٹس فار دی فیوچر سے وابستہ ہانا پرنس نے کہا کہ جیسے ماضی میں تمباکو کے اشتہارات کو معمول سمجھا جاتا تھا، ویسے ہی اب گوشت کی تشہیر کے حوالے سے بھی سماجی رویے بدل رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیدرلینڈز کے دیگر شہر، جن میں ہارلیم، یوٹریخت اور نائمخن شامل ہیں، بھی اسی نوعیت کی پابندیاں نافذ کر چکے ہیں، جبکہ یورپ کے مختلف شہروں میں فوسل فیول اشتہارات محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے تصویر پر کلک کریں


