انسانی امداد غز*ہ پہنچانے کی کوشش کرنے والے بین الاقوامی امدادی بحری قافلے صمود فلو*ٹیلا کے سینکڑوں رضاکاروں کو اسرا*ئیلی حکام نے تحویل میں لینے کے بعد بندرگاہ منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جس پر مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ’’گلوبل صمود فلو*ٹیلا‘‘ نامی امدادی مشن میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 430 سے زائد کارکن شریک تھے، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ فورسز نے قافلے کو سمندر میں روکنے کے بعد اس کے ارکان کو حراست میں لیا۔
RED ALERT!
Military vessels are currently intercepting our fleet and IOF forces are boarding the first of our boats in broad daylight.
We demand safe passage for our legal, non-violent humanitarian mission. Governments must act now to stop these illegal acts or piracy meant to… pic.twitter.com/4RmPuswZNo
— Global Sumud Flotilla (@gbsumudflotilla) May 18, 2026
اسرا*ئیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق زیرِ حراست افراد کو اسرا*ئیل منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان کے متعلقہ ممالک کے سفارتی حکام سے رابطہ کر کے قانونی اور قونصلر معاملات نمٹائے جائیں گے۔
انسانی حقوق تنظیموں کا موقف
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں اور امدادی تنظیموں نے کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امدادی سامان لے جانے والے بحری قافلے کو روکنا بین الاقوامی انسانی قوانین کی روح کے منافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غز*ہ میں انسانی بحران کے پیشِ نظر امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے۔
مذید پڑھئِے
ایران کا انکار،ان کو جلد پتہ لگ جائے گا کیا ہونے والا ہے،ٹرمپ کی دھمکی – urdureport.com
ٹیکسلا میں اثار قدیمہ خطرے میں ،یونیسکو نے خبردار کر دیا – urdureport.com
سرکاری مؤقف ہے کہ یہ قافلہ غز*ہ کی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ امریکی حکام نے بھی اس مشن کے چند منتظمین کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
واقعہ پر تشویش
پاکستان، ترکیہ، اسپین اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آنے والی اس کارروائی کی مذمت کی ہے اور گرفتار افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں مختلف ممالک کے سماجی کارکن، صحافی اور انسانی حقوق کے نمائندے شامل ہیں۔ کئی حکومتوں نے اپنے شہریوں کی رہائی اور ان تک قونصلر رسائی کے لیے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ غز*ہ گزشتہ کئی برسوں سے سخت پابندیوں اور ناکہ بندی کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی ایک بڑا انسانی مسئلہ بن چکی ہے۔ اسی تناظر میں مختلف بین الاقوامی گروپ وقتاً فوقتاً امدادی قافلے روانہ کرتے رہے ہیں، تاہم متعدد مشنز کو راستے میں روکنے یا واپس بھیجنے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔


