تحریر طارق اقبال چوہدری

اگر موجودہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو 5 اگست 2026 تک سابق وزیر اعظم عمران خان کی مسلسل قید تین سال مکمل کر لے گی، جو انہیں ملک کی سیاسی تاریخ کے طویل قید کا سامنا کرنے والے سابق وزرااعظم کی فہرست میں نمایاں کر دے گی۔پاکستان میں عدلیہ کے کردار پر ہمیشہ ایک سوال اٹھتا رہا بے شک اس میں عمران خان کا کیس ہو ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا نواز شریف،“ملک میں جمہوری رہنماؤں اور اداروں کو اکثر قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔”
مگر عمران خان کے معاملے ایک اہم بات ملک میں 26 ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد جس طرح عدالتی نظام کو حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے تبدیل کیا ان کے اعلیٰ عدلیہ میں کیسز بھی لٹک گئے۔
عمران خان کی موجودہ قید

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو 5 اگست 2023 کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، جہاں وہ مختلف مقدمات میں قید ہیں۔ اگر وہ 5 اگست 2026 تک رہا نہیں ہوتے تو ان کی مسلسل قید تقریباً تین سال مکمل ہو جائے گی۔
اس وقت عمران خان 2 مقدمات میں دی گئی سزاؤں کی وجہ سے جیل میں ہیں، ان میں ایک القادر ٹرسٹ کیس اور دوسرا توشہ خانہ ٹو کیس ہے جو بلغاری جیولری سیٹ سے متعلق ہے۔القادر ٹرسٹ کیس ، توشہ خانہ ٹواسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔
بعد ازاں انہیں جولائی 2019 میں ایل این جی کیس میں دوبارہ گرفتار کیا گیا، تاہم یہ قید نسبتاً مختصر مدت پر مشتمل رہی۔
"ذوالفقار علی بھٹو کا "عدالتی قتل

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ستمبر 1977 میں گرفتار کیا گیا۔ وہ تقریباً ڈیڑھ سال قید میں رہے اور 4 اپریل 1979 کو انہیں ایک قتل کیس میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کا مقدمہ پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی متنازع باب سمجھا جاتا ہے۔مسٹر بھٹو کے کیس میں سپریم کورٹ نے بعد ازاں ان کے شفاف ٹرائل پر سوالات اٹھائے۔پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کو ایک عدالتی قتل قرار دیتی ہے ، یہ ایک ایسا برا فیصلہ ہے جس کی اعلیٰ عدالتوں میں بطور عدالتی نظیر دینا بھی پسند نہیں کی جاتی۔
ذوالفقار علی بھٹو Zulfikar Ali Bhutto کو 1974 میں نواب محمد احمد خان کے قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ بعد میں “احمد رضا قصوری قتل کیس” کے نام سے مشہور ہوا۔ ٹرائل لاہور ہائی کورٹ میں ہوا جہاں انہیں سزائے موت سنائی گئی، جسے سپریم کورٹ نے اپیل میں برقرار رکھا، اور بالآخر 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔
نواز شریف کے دو ادوارِ قید

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پہلی بار 12 اکتوبر 1999 کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب فوجی حکومت نے اقتدار سنبھالا۔ وہ تقریباً 14 ماہ تک قید میں رہے، جس کے بعد دسمبر 2000 میں انہیں سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا۔
بعد ازاں وہ دوبارہ 13 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ کیس میں گرفتار ہوئے اور اڈیالہ جیل منتقل کیے گئے۔ وہ تقریباً 14 ماہ قید میں رہنے کے بعد 2019 میں طبی بنیادوں پر رہا ہوئے۔
یوسف رضا گیلانی کی طویل ترین قید
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو 11 فروری 2001 کو نیب کیس میں گرفتار کیا گیا۔ وہ تقریباً 5 سے 6 سال تک جیل میں رہے، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سابق وزرائے اعظم کی طویل ترین مسلسل قید تصور کی جاتی ہے۔
شاہد خاقان عباسی کی دو مختلف گرفتاریاں
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی 1999 کے طیارہ ہائی جیکنگ کیس کے بعد تقریباً 2 سال جیل میں رہے اور 2001 میں بری ہو گئے۔
مجموعی موازنہ اور تاریخی تناظر
اگر صرف مسلسل قید کو دیکھا جائے تو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی تقریباً 5 سے 6 سال کی قید اب تک سب سے طویل سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مقابلے میں نواز شریف اور دیگر رہنماؤں کی قید نسبتاً کم مدت پر مشتمل رہی۔
موجودہ صورتحال میں اگر عمران خان 5 اگست 2026 تک جیل میں رہتے ہیں تو ان کی مسلسل قید تین سال مکمل کر لے گی، جس کے بعد وہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں طویل قید کا سامنا کرنے والے نمایاں سابق وزرائے اعظم میں شامل ہو جائیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں سابق وزرائے اعظم کی گرفتاریوں اور سزاؤں کی یہ تاریخ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک میں سیاست، عدلیہ اور طاقت کے مراکز کے درمیان تعلقات اکثر پیچیدہ اور تنازع کا شکار رہے ہیں۔اس کے علاوہ آصف علی زرداری نے مجموعی طور پر مختلف کیسز اور حراستوں میں تقریباً ایک دہائی (10–11 سال) جیل میں گزاری تاہم آصف زرداری کبھی بھی وزیر اعظم کے عہدے پر نہیں رہے وہ دو مرتبہ پاکستان کی صدرارت سنبھالنے والی شخصیت ہیں۔
مذید پڑھئِے


