اوورسیز پاکستانیوں، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم لاکھوں تارکین وطن کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سرمایہ کاری کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ مرکزی بینک نے نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس (NPCs) اسکیم کو مزید وسعت دیتے ہوئے اب سعودی ریال اور اماراتی درہم میں بھی سرمایہ کاری کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔
اس فیصلے کا مقصد خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو اپنی کمائی ہوئی مقامی کرنسی میں ہی محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرنا ہے، تاکہ انہیں کرنسی ایکسچینج کے اضافی اخراجات سے بچایا جا سکے اور وہ براہِ راست پاکستان کی مالیاتی منڈی سے جڑ سکیں۔

اسٹیٹ بینک کی ہدایات
اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق حکومت پاکستان نے 15 مئی 2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے تحت ان نئی کرنسیوں میں سرٹیفیکیٹس کے اجرا کی منظوری دی ہے۔ اس سے قبل یہ اسکیم صرف امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو میں دستیاب تھی، تاہم اب ریال اور درہم کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر کے سب سے بڑے ذرائع میں شامل ہیں، جہاں سے ہر سال اربوں ڈالر پاکستان بھیجے جاتے ہیں۔ اس نئی سہولت سے اوورسیز پاکستانی بغیر کرنسی تبدیل کیے آسانی سے سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
سرمایہ کاری کی شرائط
رپورٹس کے مطابق اس اسکیم میں کم از کم سرمایہ کاری 1000 یونٹس مقرر کی گئی ہے جبکہ مزید سرمایہ کاری 500 یونٹس کے اضافے سے ممکن ہوگی۔ مختلف مدتوں کے لیے منافع کی شرح 6.50 فیصد سے 7.50 فیصد سالانہ تک مقرر کی گئی ہے، جو مدت کے لحاظ سے بڑھتی جاتی ہے۔ یہ شرحیں ٹیکس سے قبل ہیں اور قابلِ اطلاق قوانین کے مطابق ٹیکس کٹوتی ہوگی۔
مذید خبریں
بجٹ 2026:رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی تبدیلیاں ،ٹیکسز میں کمی – urdureport.com
وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی ،10 جون نئی تاریخ – urdureport.com
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسے محفوظ سرمایہ کاری کے آپشنز اوورسیز پاکستانیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف بچت کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ مستقل اور متوقع منافع بھی فراہم کرتے ہیں۔
تارکین وطن کا رسپانس
خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کی سہولت سے وقت اور اضافی اخراجات دونوں کی بچت ہوگی، جس سے یہ اسکیم مزید پرکشش بن جاتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت پاکستان گزشتہ کچھ برسوں سے اوورسیز پاکستانیوں کی بچتوں کو رسمی مالیاتی نظام میں لانے کی کوشش کر رہی ہے، اور نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس اسی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف ترسیلاتِ زر میں اضافہ متوقع ہے بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی استحکام مل سکتا ہے۔
بینکاری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس اسکیم کو مؤثر طریقے سے اوورسیز پاکستانیوں تک پہنچایا گیا تو اس میں نمایاں سرمایہ کاری دیکھنے کو مل سکتی ہے، جس سے پاکستان اور بیرون ملک مقیم شہریوں کے درمیان مالی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔


