اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے دائر کی گئی نظرِثانی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مقدمے میں موجود واضح شواہد اور پہلے سے طے شدہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نظرِثانی کی درخواست قابلِ قبول نہیں۔

کیس کا پس منظر
نور مقدم کا قتل جولائی 2021 میں اسلام آباد میں پیش آیا تھا جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ظاہر جعفر کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا۔ ٹرائل کورٹ نے فروری 2022 میں انہیں سزائے موت سنائی تھی۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے اپیل کی سماعت کے دوران ریپ کے الزام میں دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا، تاہم قتل کے جرم میں سزائے موت برقرار رہی۔
نظرِثانی اپیل اور دلائل
جمعرات کے روز ہونے والی سماعت میں مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کے وقت ظاہر جعفر کی ذہنی حالت درست نہیں تھی اور وہ مختلف ذہنی امراض کے لیے ادویات استعمال کرتا رہا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کے علاج سے گزر رہا تھا۔ تاہم بینچ نے ان دلائل پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ان دعوؤں کے لیے واضح طبی ریکارڈ اور علاج کی تفصیل پیش نہیں کی گئی۔
مذید خبریں
اٹلی :چار مزدوروں کے جلانےمیں دو پاکستانی ملوث،پانچویں مزدور کے ہولناک انکشافات – urdureport.com
برطانیہ ! 15 ملزمان کو کمسن لڑکی سے زیادتی کیس میں 188 سال قید – urdureport.com
ججز نے استفسار کیا کہ بیماری کب شروع ہوئی، علاج کہاں ہوا اور وقوعہ کے وقت کیا صورتحال تھی، اس حوالے سے ٹھوس شواہد عدالت میں موجود نہیں۔
عدالت کے ریمارکس
سماعت کے دوران بینچ نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کا کام ٹرائل کورٹ کی طرح دوبارہ شواہد کا جائزہ لینا نہیں، اور نہ ہی عدالت میڈیا یا سوشل دباؤ میں فیصلے کرتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پہلے سے میڈیکل بورڈ سے متعلق درخواستیں ٹرائل مرحلے پر مسترد ہو چکی تھیں اور ان کے خلاف اپیل بھی دائر نہیں کی گئی تھی، لہٰذا یہ معاملہ حتمی ہو چکا ہے۔
فیصلہ
دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی نظرِثانی اپیل مسترد کر دی اور سزائے موت کو برقرار رکھا۔
اب قانونی ماہرین کے مطابق مجرم کے پاس صرف صدرِ پاکستان کو رحم کی اپیل دائر کرنے کا آپشن باقی رہ گیا ہے۔


