بالی وڈ اداکار رنویر سنگھ کے گرد ایک نیا تنازع اس وقت پیدا ہوا جب فلمی صنعت کے کارکنوں اور تکنیکی ماہرین کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائیز (FWICE) نے ان کے خلاف عدم تعاون کی مہم کا اعلان کیا۔ تاہم چند ہی دنوں بعد تنظیم نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہش ظاہر کر دی۔
یہ تنازع رنویر سنگھ کے فلم "ڈان 3” سے اچانک علیحدگی اختیار کرنے کے بعد سامنے آیا۔ یونین کے مطابق اس منصوبے پر گزشتہ تین برس سے کام جاری تھا اور فلم کی تیاری کے مختلف مراحل پر بھاری سرمایہ خرچ کیا جا چکا تھا۔
رنویر سنگھ کا قانونی نوٹس
اطلاعات کے مطابق یونین کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد رنویر سنگھ نے تنظیم کو قانونی نوٹس بھجوایا، جس کے بعد معاملے نے نیا رخ اختیار کیا۔ اگرچہ نوٹس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، لیکن یونین کے عہدیداروں نے اداکار کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
مذید خبریں
اداکارہ مومنہ اقبال کی شادی وائرل امیر دولہےحمزہ امیر بارئے تجسس بڑھ گیا – urdureport.com
مامیا شاہ جعفر کا خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف – urdureport.com
تنظیم کے صدر بی این تیواری نے کہا کہ فلمی صنعت رنویر سنگھ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یونین کی قانونی ٹیم نوٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔ دوسری جانب چیف ایڈوائزر اشوک پانڈت نے بتایا کہ مختلف فلمی تنظیموں کی درخواست پر عدم تعاون کا فیصلہ واپس لیا گیا اور رنویر سنگھ سے ملاقات کی اپیل کی گئی ہے تاکہ تنازع خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے۔
اشوک پانڈت کے مطابق یونین کے پاس کسی اداکار پر پابندی عائد کرنے کا قانونی اختیار نہیں اور تنظیم صرف صنعت کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔
تنازع کی بنیاد اس شکایت پر رکھی گئی جو فلم ساز فرحان اختر اور ان کے شریک پروڈیوسر رتیش سدھوانی نے انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن میں جمع کرائی تھی۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رنویر سنگھ نے شوٹنگ شروع ہونے سے محض چند ہفتے قبل فلم چھوڑ دی جس سے منصوبے کو مالی نقصان پہنچا۔
فلم پر اخراجات کا تنازع
پروڈیوسرز کے مطابق فلم کی پری پروڈکشن پر 45 کروڑ بھارتی روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں، جن میں بیرون ملک سفر، ہوٹل بکنگ اور دو سو سے زائد عملے کے انتظامات شامل تھے۔ ایکسل انٹرٹینمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اداکار کی علیحدگی کے باعث ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے ان سے معاوضہ طلب کیا گیا ہے۔
یونین کا کہنا ہے کہ رنویر سنگھ کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے متعدد بار دعوت دی گئی، تاہم مقررہ مدت کے دوران ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
رنویر سنگھ کے ترجمان کا موقف
دوسری طرف رنویر سنگھ کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا کہ اداکار فلمی صنعت، ڈان فرنچائز اور اس منصوبے سے وابستہ تمام افراد کا احترام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق رنویر نے جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیشہ ورانہ اختلافات کو میڈیا میں اچھالنے کے بجائے باہمی احترام اور سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مختلف قیاس آرائیوں کے باوجود اداکار نے کسی تنازع کو ہوا دینے کے بجائے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور مستقبل کے منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔
ڈان 3 کے حوالے سے مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ رنویر سنگھ اسکرپٹ سے مطمئن نہیں تھے، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق انہیں یہ تاثر ملا کہ فلم ساز ہریتک روشن کو مرکزی کردار کے لیے زیر غور لا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 2023 میں فرحان اختر نے باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ ڈان سیریز کی تیسری فلم میں مرکزی کردار رنویر سنگھ ادا کریں گے۔ ڈان فرنچائز کی بنیاد 1978 کی مشہور فلم پر ہے جس میں امیتابھ بچن نے مرکزی کردار نبھایا تھا، جبکہ 2006 اور 2011 میں بننے والی نئی فلموں میں شاہ رخ خان ڈان کے روپ میں نظر آئے تھے۔


