ناران: عید کی تعطیلات اور خوشگوار موسم کے باعث ناران میں سیاحوں کی بڑی تعداد پہنچنے سے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں گنجائش ختم ہو گئی، جس کے نتیجے میں نئے آنے والے مسافر رہائش کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ناران سیاحوں کا غیر معمولی رش ۔ڈربوں میں رات گزارنے پر مجبور ،ناران کے لوگوں نے لوٹ مار کی انتہا کر دی۔ pic.twitter.com/sPLiqrt7aI
— Urdu Report (@UrduReportpk) June 4, 2026
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وادی ناران میں اس وقت سیاحوں کا غیرمعمولی دباؤ ہے اور بیشتر ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور لاجز مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث کئی خاندانوں کو مناسب رہائش کی تلاش میں طویل انتظار اور اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
کچھ سیاحوں نے بتایا کہ رہائش نہ ملنے کے باعث انہیں عارضی شیڈز ،مرغیوں کی رہائش کے ڈربوں اور محدود سہولیات والے کمروں میں قیام کرنا پڑا، جہاں کرایے بھی معمول سے کہیں زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں۔
ناران میں بنیادی سپولتوں کی کمی
سیاحوں کے مطابق شدید سردی کے باوجود بعض مقامات پر مناسب بستر اور کمبل دستیاب نہیں جبکہ بنیادی سہولیات، خصوصاً صاف ستھرے واش رومز کی کمی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
مذید خبریں
مانسہرہ چلاس موٹروے کی منظوری: بابوسر ٹاپ پر طویل ترین سرنگ – urdureport.com
ماونٹ ایورسٹ: کوہ پیما خطرات کی لپیٹ میں آگئے – urdureport.com
دوسری جانب سیاحوں نے سفر کی منصوبہ بندی کرنے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ ناران روانگی سے قبل رہائش کی پیشگی بکنگ یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متبادل طور پر کشمیر، مری اور دیگر سیاحتی مقامات کا انتخاب بھی کیا جا سکتا ہے جہاں نسبتاً بہتر انتظامات دستیاب ہیں۔
سیاحوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بابوسر ٹاپ جانے والی سڑک تاحال بند ہے، لہٰذا مسافروں کو سفر سے قبل راستوں اور موسمی صورتحال سے متعلق تازہ معلومات ضرور حاصل کرنی چاہئیں۔


