دنیا کی نیپال میں واقع بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ کا بیس کیمپ اب ایک مصروف مرکز کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ رواں سیزن کے دوران ایک ہی دن میں 274 کوہ پیما چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث ہر سال ہزاروں افراد ایورسٹ کا رخ کرتے ہیں۔
تمام تر چیلنجز اور خطرات کے باوجود ایورسٹ آج بھی دنیا بھر کے مہم جو افراد کے لیے سب سے بڑی کشش برقرار رکھے ہوئے ہے، اور ہر سال سینکڑوں افراد دنیا کی بلند ترین چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں ٹیکنالوجی، موسمی پیش گوئی اور حفاظتی انتظامات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ جدید موسمیاتی ماڈلز، سیٹلائٹ فونز، جی پی ایس ٹریکرز اور ڈرونز کی مدد سے کوہ پیماؤں کی حفاظت اور ریسکیو آپریشنز پہلے سے زیادہ مؤثر ہو گئے ہیں۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چوٹی تک جانے والے راستوں پر بڑھتی ہوئی بھیڑ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ طویل قطاروں کی وجہ سے کوہ پیماؤں کو انتہائی بلندی پر زیادہ وقت گزارنا پڑتا ہے، جس سے آکسیجن کی کمی، فراسٹ بائٹ اور دیگر جان لیوا مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تیس سال قبل کا سانحہ
ماؤنٹ ایورسٹ پر 1996 کے مشہور سانحے کو 30 سال مکمل ہو چکے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی پر خطرات کی نوعیت اب تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں غیر متوقع برفانی طوفان سب سے بڑا خطرہ سمجھے جاتے تھے، جبکہ آج بڑھتا ہوا ہجوم، ناتجربہ کار کوہ پیما اور بعض کم معیار کی مہماتی خدمات زیادہ تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔

10 مئی 1996 کو ایورسٹ پر آنے والے شدید برفانی طوفان میں آٹھ کوہ پیما ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے عالمی توجہ حاصل کی اور بعد ازاں جون کراکاؤر کی کتاب Into Thin Air نے اسے کوہ پیمائی کی تاریخ کے مشہور ترین سانحات میں شامل کر دیا۔ اس کے بعد ایورسٹ سر کرنا دنیا بھر کے مہم جو افراد کے لیے ایک بڑی خواہش بن گیا۔
ماہرین کا موقف
کوہ پیمائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض سستی مہماتی کمپنیاں مناسب تربیت اور تجربے کے بغیر افراد کو ایورسٹ لے جاتی ہیں، جو حادثات کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق تجربہ کار گائیڈز اور مضبوط حفاظتی نظام آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکے ہیں۔
مذید پڑھئِے
ایمسٹرڈیم:دنیا کا پہلا شہر جہاں گوشت کے اشتہاروں پر پابندی – urdureport.com
ابو ظہبی :24 گھنٹے کا انڈور اسٹے کیشن، 4 ثقافتی جگہوں کی سیر – urdureport.com
دوسری جانب نیپالی شرپا برادری کا کردار بھی پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔ شرپا گائیڈز اب نہ صرف ریکارڈ قائم کر رہے ہیں بلکہ راستوں کی تیاری، ریسکیو آپریشنز اور مہماتی کمپنیوں کی قیادت میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی ایک اہم خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث خُمبو آئس فال سمیت کئی برفانی علاقے غیر مستحکم ہو رہے ہیں، جس سے کوہ پیماؤں اور شرپا گائیڈز کو اضافی خطرات کا سامنا ہے۔


