ایران کے نائب وزیر خارجہ Kazem Gharibabadi نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر خودمختاری استعمال کرنے کا حق صرف ایران اور عمان کو حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت کے کنٹرول کے لیے نیا نظام نافذ کیا ہے جو عمان کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت چلایا جا رہا ہے، جبکہ تہران نے مسقط پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے نہ جھکے۔
ایران امریکہ کے حملے
دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے کے اختتام پر ایران کے شہر گورک اور جزیرہ قشم (Qeshm Island) میں ریڈار اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ادھر کویت نے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی ہے جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ایسے فوجی اڈے پر جوابی حملہ کیا جو اس کے بقول جزیرہ سیریک (Sirik Island) پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ایران اور امریکہ کے حملوں کے ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں پھر تیزی آنا شروع ہو گئِ ہے۔
ایرانی صدر کا استعفیٰ
ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان Masoud Pezeshkianنے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے انہوں نے مبینہ طور پر سپریم لیڈر کے دفتر کو اپنا استعفیٰ Resignation ارسال کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مبینہ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایران میں اہم ریاستی فیصلوں پر حکومتی اداروں کے بجائے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر پزشکیان نے مبینہ طور پر لکھا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وہ نہ تو حکومت چلانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی آتاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ئینی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کر سکتے ہیں، اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کی درخواست کی ہے۔
مذید پڑھئِے
ٹرمپ کی عمان کو بھی تباہ کرنے کی دھمکی – urdureport.com
ٹرمپ کے مسلم ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت پر پاکستان میں نئی بحث – urdureport.com
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار Mohammad Bagher Ghalibaf نے امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور لبنان میں اسرا*ئیلی کارروائیوں کو نہ روکنا امریکی عدم تعمیل کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔
جوہری مزاکرات کی ایرانی تردید
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baghaei نے واضح کیا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام کی تفصیلات پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ ترجیح جنگ کا خاتمہ ہے، تاہم اگر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو تہران اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔


